ہدایاتِ زرّیں — Page 18
18 ہدایات زریں بہت کم ہیں اسی طرح عقل کے اندھے بھی کم ہی ہوتے ہیں اور عموما لوگ عقل کو مارتے نہیں کیونکہ انہیں اس سے دنیاوی کام بھی کرنے ہوتے ہیں۔پس لوگ عقل سے ضرور کام لیتے ہیں۔اور جب ان کے سامنے ایسی باتیں پیش کی جائیں جو عقلی طور پر معقول ہوں تو وہ عقل سے کام لے کر ان کو تسلیم کر لیتے ہیں اور چونکہ خدا تعالیٰ نے عقل کے بہت سے دروازے رکھے ہیں اس لئے کسی نہ کسی دروازہ سے حق اندر داخل ہو ہی جاتا ہے۔اس لئے ہر ایک مبلغ کو چاہئے کہ اس سے ضرور کام لے۔یعنی لوگوں کے سامنے ایسے دلائل پیش کرے جن کو عقل تسلیم کرتی ہے۔اس ذریعہ سے وہ بہت جلدی دوسروں سے اپنی باتیں منوالے گا اور وہ کام کر لے گا جو حکومتیں بھی نہیں کر سکتیں۔ابھی دیکھ لو کچھ لوگوں نے غلط طور پر عام لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بٹھا دیا ہے کہ گورنمنٹ سے اہل ہند کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا بلکہ نقصان پہنچ رہا ہے۔گورنمنٹ کے پاس طاقت ہے سامان ہے مگر وہ روک نہیں سکتی کہ یہ خیال لوگوں کے دلوں میں نہ بیٹھے۔وجہ یہ کہ اس خیال کو بٹھانے والے تو عقلی دلائل سے کام لے رہے ہیں لیکن گورنمنٹ ان سے کام نہیں لے رہی اس لئے اس کا کچھ اثر نہیں ہورہا۔تو عقلی دلائل سے کام لینے پر بہت اعلیٰ درجہ کے نتائج نکل سکتے ہیں۔شعور کی مدد سے مراد اس سے بڑھ کر شعور ہے مگر جہاں عقل کی نسبت زیادہ نتیجہ خیز ہے وہاں خطر ناک بھی ایسا ہے کہ جس طرح بعض اوقات ڈائنامیٹ چلانے والے کو بھی ساتھ ہی اُڑا کر لے جاتا ہے، اسی طرح یہ بھی کام لینے والے کو اڑا کر لے جاتا ہے۔لوگوں نے شعور کی مختلف تعریفیں کی ہیں مگر میری اس سے مراد اس حس سے ہے جو فکر اور عقل کے علاوہ انسان کے