ہدایاتِ زرّیں — Page 13
13 ہدایات زریں کہ اسے جس قدر اور جس کے لئے جو کچھ دیا گیا ہے اسے پہنچا دے۔یہ بھی نہیں کہ سارے کا سارا ایک ہی کو پہنچا دے۔مثلاً اگر ایک شخص کے گھر کے پاس جو آدمی رہتا ہو وہ اسے عیسائیوں ، دہریوں، آریوں وغیرہ کے رد کے دلائل پہنچا دے لیکن جن عیسائیوں ، دہریوں یا آریوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہوا نہیں یونہی چھوڑ دے۔تو اس کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے پہنچا دیا کیونکہ اس کا فرض ہے کہ دہریوں کے رد کے دلائل دہریوں کو بتائے اور عیسائیوں کے رد کے دلائل عیسائیوں کو بتائے اور آریوں کے رد کے دلائل آریوں کو پہنچائے۔تو جس طرح کوئی شخص اگر وہ ساری چیزیں نہ پہنچائے جو اسے پہنچانے کے لئے دی جائیں۔اور یا ان سب کو نہ پہنچائے جن کے لئے دی جائیں، بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔اسی طرح مبلغ ساری باتیں نہ پہنچائے اور جس جس کے لئے ہیں اس کو نہ پہنچائے تو وہ مبلغ ہی نہیں ہو سکتا۔مثلاً کوئی اس طرح کرے کہ عیسائیوں میں جائے اور جا کر ان کی تو تعریف کرے اور ان میں یہودیوں کے خلاف دلائل دینے شروع کر دے یا ہندوؤں میں جائے اور ان کی تو تعریف کرے لیکن عیسائیوں کے خلاف تقریر شروع کر دے یا غیر احمدیوں میں جائے اور ان کے بگڑے ہوئے عقائد کے متعلق تو کچھ نہ کہے مگر مجوسیوں کے خلاف دلائل دینے شروع کر دے تو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنے فرض سے سبک دوش سمجھا جائے گا۔اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیغامی ہم سے الگ ہوئے ہیں۔ان کے لیکچراروں کا طریق تھا کہ غیر احمد یوں میں گئے تو عیسائیوں کے نقص بیان کرنے شروع دیئے۔ہندوؤں میں گئے تو کسی دوسرے مذہب کی برائیاں بیان کرنے لگ گئے اور ساتھ ساتھ ان لوگوں کی جوان کے سامنے ہوتے تعریف کرتے جاتے۔گویاوہ کسی کی ٹوپی کسی کو دیتے اور کسی کی جوتی کسی کو پہنچادیتے۔اس کا جو کچھ نتیجہ ہوا وہ ظاہری ہے۔