ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 12

12 ہدایات زریں نہ پہنچایا۔اس کے اگر یہ معنی کئے جائیں کہ تو نے خدا کا کلام اگر نہ پہنچایا تو کلام نہ پہنچایا تو کلام بے معنی ہو جاتا ہے مثلاً کوئی کہے کہ اگر تو نے روٹی نہیں کھائی تو نہیں کھائی۔یا پانی نہیں پیا تو نہیں پیا۔تو یہ لغو بات ہوگی۔کیونکہ جب روٹی نہیں کھائی تو ظاہر ہے کہ نہیں کھائی۔پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ تو نے نہیں کھائی یا پانی نہیں پیا تو ظاہر ہے کہ نہیں پیا۔پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ تو نے نہیں پیا۔اس لئے وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رسلته (المائدة :۶۸) کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اگر تو نے خدا کا کلام نہیں پہنچایا تو کلام نہیں پہنچایا۔بلکہ یہ ہیں کہ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ میں جو وسعت رکھی گئی ہے اس میں سے اگر کوئی بات نہیں پہنچائی اس کا کوئی حصہ رہ گیا ہے تو تجھے جو کچھ پہنچانا چاہئے تھا اسے تو نے گویا بالکل ہی نہیں پہنچایا۔کیونکہ وہ کلام بتمام و کمال پہنچانا ضروری تھا۔پس مبلغ کا کام یہ ہے کہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ سارے کا سارا دنیا میں پہنچا دے اور جو حصہ جس کے متعلق ہے اسے پہنچائے۔یہ نہیں کہ کسی اور کا حصہ اور ہی کو دے آئے یا بعض کو ان کا حصہ پہنچا دے اور بعض کو نہ پہنچائے۔اگر وہ اس طرح کرے گا تو اپنے فرض سے سبک دوش نہ ہوگا۔بلکہ اس کا فرض ہے کہ جس جس کا حصہ ہے اس تک پہنچا دے مثلاً گھروں میں حصے بٹتے ہیں۔لوگ نائنوں کو حصہ دیتے ہیں کہ فلاں فلاں گھروں میں دے آؤ۔اب اگر نائن کو دس حصے پہنچانے کے لئے دیئے جائیں اور وہ ان میں سے آٹھ تو پہنچا دے مگر دونہ پہنچائے تو وہ یہ نہیں کہ سکتی ، آٹھ جو پہنچا آئی ہوں اگر دو نہیں پہنچائے تو کیا ہوا ؟ پس جس طرح اس کا آٹھ حصے پہنچا دینا دو کے نہ پہنچانے کے قصور سے اسے بری الذمہ نہیں کر سکتا۔اسی طرح مبلغ اگر ہر ایک کو اسکا حصہ نہیں پہنچا تا بلکہ بعض کو پہنچا دیتا ہے تو وہ بری الذمہ نہیں ٹھہر سکتا۔اس لئے مبلغ کا فرض ہے