ہدایاتِ زرّیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 57

ہدایاتِ زرّیں — Page 46

46 ہدایات زریں بالکل قریب ہے۔بلکہ جہالت سے بالکل ملی ہوئی ہے ورنہ آگے جوں جوں بڑھتے جائیں اس کی شاخیں نکلتی آتی ہیں اور وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتیں۔اگر کسی نے ایک شاخ کو ختم کر لیا تو اس کے لئے دوسری موجود ہے۔غرض علم کی کوئی حد نہیں ہوتی اور وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور روحانی علوم کی تو قطعا کوئی حد ہے ہی نہیں۔ڈاکٹری کے متعلق ہی کس قدر علوم دن بدن نکل رہے ہیں اور روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔پس کوئی علم ختم نہیں ہوسکتا۔اور جہاں کسی کو یہ خیال پیدا ہو کہ علم ختم ہو گیا ہے وہاں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ علم کے درخت سے اتر کر جہالت کی طرف آ گیا ہے۔پس کبھی یہ مت خیال کرو کہ ہمارا علم کامل ہو گیا۔کیونکہ ایک تو یہ جھوٹ ہے کوئی علم ختم نہیں ہوسکتا۔دوسرے اس سے انسان متکبر ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔لیکن اگر انسان ہر وقت اپنے آپ کو طالب علم سمجھے اور اپنے علم کو بڑھاتا رہے تو اس کے دل پر زنگ نہیں لگتا۔کیونکہ جس طرح چلتی تلوار کو زنگ نہیں لگتا لیکن اگر اسے یوں ہی رکھ دیا جائے اور اس سے کام نہ لیا جائے تو زنگ لگ جاتا ہے۔پس ہر وقت اپنا علم بڑھاتے رہنا چاہئے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ علم کبھی ختم نہیں ہوتا۔پندرہویں ہدایت پندرہویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ بلغ میں کہا گیا ہے کہ پہنچا دے۔اور جس کو کچھ پہنچایا جاتا ہے وہ بھی کوئی وجود ہونا چاہئے جو معین اور مقرر ہو۔ورنہ اگر کسی معین وجود کو نہ پہنچانا ہو تو یہ کہا جاتا کہ پھینک دو یا بانٹ دو۔مگر اللہ تعالیٰ نے پہنچا نا فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معین وجود ہیں جن کو ان کا حصہ پہنچانا ہے۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران:۱۱۱)