حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 3
L % آج سے تقریبا ڈیڑھ دو سو سا قبل برصغیر پاک و ہندمیں مختلف مذہبی تحریکات میں بیداری کی امنگیں جواں ہونے لگیں تو ان میں اپنے اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنے کے لئے باقاعدہ اور منظم جدو جہد شروع ہوئی۔ننشالہ میں انگلستان سے ایک عیسائی مناد ولیم کیری صاحب بنگال میں وارد ہوئے تا کہ بر صغیر پاک و ہند میں خدا کی بادشاہت قائم کریں۔بعد ازاں جلد ہی اس خطہ ارض پر پادریوں کی مسلسل آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہوگیا اور آمد ورفت کی رفتار تیز تر ہوتی چلی گئی۔اور تقریب انصف صدی تک عیسائیت مضبوط قدموں کے ساتھ وہاں قائم ہوگئی حتی کہ شاید میں پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر چارلس ایچی سن نے اپنی تقریر میں یہ بیان دیا کہ نے جس رفتار سے ہندوستان کی معمولی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے چار پانچ گنا زیادہ تیز رفتاری سے عیسائیت اس ملک میں پھیل رہی ہے اور اس وقت ہندوستانی عیسائیوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے؟ ردی مشتر مصنفہ آمر کلارک ، مطبوعہ لنڈن ص ۲۳۲) ۱۸۹۶ء میں امریکہ سے مشہور عیسائی متاد ڈاکٹر جان ہنری بیرونہ کو ہندوستان بلوایا گیا۔انہوں نے برصغیر کا طوفانی دورہ کر کے جگہ جگہ لیکچر دیئے اور ان لیکچروں میں عیسائی سلطنہ کیسے دید یہ اور حکومت اور ان میں عیسائیت کے غلبہ و استیلاء کا نہایت پرشکوہ الفاظ میں نقشہ کھینچنے کے بعد انہوں نے خاص طور پر اسلامی ممالک میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا بڑ سے۔