حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 4
فاتحانہ انداز میں ذکر کیا اور کہا :- اب میں اسلامی ملکوں میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا ذکر کرتا ہوں اس ترقی کے نتیجہ میں صلیب کی چمکا راگر ایک طرف لبنان پر حلوہ فگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کے نور سے جگمگ جگمگ کر رہا ہے۔یہ صورتحال اس آنے والے انقلاب کا پیش خیمہ ہے جب قاہرہ ، دمشق اور تہران خداوند یسوع مسیح کے خدام سے آبا د نظر آئیں گے ، حتی کہ صلیب کی چکار صحرائے عرب کے سکوت کو چیرتی ہوئی خداوند یسوع مسیح کے شاگردوں کے ذریعہ مکہ اور خاص کھیہ کے حرم میں داخل ہوگی اور بالآخر وہاں صداقت کی منادی کی جائے گی کہ ابدی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ حقیقی اور واحد خدا کو اور میسوع مسیح کو جانیں جس کو تو نے بھیجا ہے؟ د بیروزی کیچرز مت) بر صغیر پاک و ہند عملاً ایک ایسے اکھاڑے کی شکل اختیار کر گیا تھاکہ جس میں مذاہب عالم کی گشتی کھیلی جارہی تھی۔خصوصاً ہندومت، عیسائیت اور اسلام بڑے وسیع پیمانہ پر اور انتہائی گرمجوشی کے ساتھ برسر پیکار تھے۔مذکورہ بالا مذاہب کے علماء جہاں ایک دوسرے کو عقائد کے لحاظ سے مات دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے وہاں اس پیکار کی ایک ناپسندیدہ صورت یہ بھی اختیار کر لی گئی کہ وہ بانیان مذاہب کی ذات پر گند اچھا سلنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرتے اور اس پہلو سے دوسر سے کی جس قدر زیادہ دل آزاری ہوتی اتنی ہی اپنے مذہب کی برتری گردانی جاتی۔علاقہ پر تسلط انگریزی حکومت کا تھا اور واضح طور پر عیسائیت کی حکمرانی تھی اسلئے یہ ماحول، یہ فضا اور یہ وقت اگر عیسائیوں کے لئے ہر پہلو سے سازگار تھا تو مسلمانوں کیلئے سر سے