حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب

by Other Authors

Page 9 of 27

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 9

۹ (ii) دوسرے یہ کہ حضرت عیسی اپنے مخالفوں کو گتا کہتے تھے۔اگرہم بھی ان کے مخالفوں کو کتا کہیں تو دینی تہذیب اخلاق سے بعید نہیں بکہ میں تقلید عیسوی ہے۔(مش) (ii) علی بن مریم که آخر درماندہ ہوکر دنیا سے انہوں نے وفات پائی ؟ " نوان " اور سب عقلاء جانتے ہیں کہ بہت سے اقسام سحر کے مشابہ ہیں میجرت سے خصوصاً معجزات موسویہ اور عیسویہ سے ۳۳۰ (۷) یسوع نے کہا۔میرے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے۔اور صریح دنیا کی تنگی سے شکایت کرنا کہ اقبح ترین ہے۔۳۲۰ وان ران (پادری صاحبان کا اصل دین و ایمان اگر یہ ٹھیرا ہے کہ خدا مریم کے رحم میں جنین بن کر خون حیض کا کٹی پھیلنے تک کھاتا رہا اور علقہ سے مصنفہ بنا مضغہ سے گوشت اور اس میں ہڈیاں بنیں اور اس کی مخرج معلوم سے نکلا اور لگتا مومتا رہا۔یہاں تک کہ جوان ہو کر اپنے بندے یحیی کا مرید ہوا۔اور آخر کار ملعون ہو کر تین دن دوزخ میں رہا " (اشت ۳۵۰) (vii) "انجیل اول کے باب یاز دہم کے درس نوزد ہم میں لکھا ہے کہ بڑے کھاؤ اور بڑے شرابی تھے : ص۲۵۳ (ا) جس طرح اشتیاہ اور عیسی علیہما السلام کی بعضی بلکہ اکثر پیش گوئیاں ہیں جو صرف بطور معتے اور خواب کے ہیں جس پر چاہو منطبق کر لو یا باعتبار ظاہری معنوں کے محض جھوٹ ہیں۔یا مانند کلام یوحنا کے محض مجذوبوں کی سی بڑیں۔ویسی پیشگوئیاں البتہ قرآن میں نہیں ہیں۔۳۶۰ (ix) پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسی کا سب بیان معاذ اللہ جھوٹ ہے۔اور