حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب

by Other Authors

Page 14 of 27

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 14

۱۴۴ " تم کیوں غل مچاتے اور روتے ہولڈ کی مر نہیں گئی بلکہ سوتی ہے؟ رمتی ، مرقس ، لوقا ہے اسکی بعد مسیح نے کہا اے لڑکی اُٹھے۔وہ لڑکی اٹھ کر چلنے پھرنے لگی۔اس موقعہ پر عیسائی کہتے ہیں کہ وہ لڑکی مرگئی تھی۔حضرت مسیح کے مجوزہ سے زندہ ہوئی۔چنانچہ لوقا سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔لوقا کے الفاظ یہ ہیں:۔" اس کی روح پھر آئی اور وہ اسی دم اُٹھی۔داس بیان میں لوقا منفرد ہے۔روح پھر آنا دلالت کرتا ہے کہ اس کی روح نکل چکی تھی دوبارہ زندہ ہوئی۔لہذا ضرور تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسیح نے اس جگہ نار است بات کہی اور خلاف واقعہ شہادت دی۔حالانکہ سیح نے خلاف واقعہ بات کرنے سے خود ہی شاگردوں کو منع کیا ہے۔(مرقس با خون نہ کر، زنا نہ کر، چوری تہ کر جھوٹی گواہی نہ دے۔امثال لا میں ہے کہ جھوٹا گواہ بے سزا نہ چھوٹے گا اور جھوٹ بولنے والا رہائی نہ پائے گایا راسی طرح یوحنا میں ہے:۔لوگوں نے مسیح سے کہا کہ تم عیدمیں جاؤ میں بھی اس عیدمیں نہیں جاتا۔لیکن جب اس کے بھائی سعید میں چلے گئے اس وقت وہ بھی گیا۔یوحنا ہے ) دیکھو حضرت مسیح نے عید میں جانے سے انکار کیا اور پھر چھپ کے گئے۔اور متی کے حوالہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح نے جھوٹ بولنے اور کتمان حق کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔چنانچہ مستی میں ہے :- تب اس وقت اسی حکم دیا کسی کونہ بتانا کہ یسوع مسیح ہے، ہستی ہے