حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب

by Other Authors

Page 5 of 27

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 5

زیادہ ناساند گار۔کیونکہ مسلمانوں کے لئے ان کی مقدس شریعت قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہر نبی اور ہر قوم کے ہادی کی عزت و تکریم کرنا ایمان کا لازمی جزو تھا اور ان کے مقدس ومعصوم ہونے پر ہر مسلمان کامل یقین رکھتا تھا لہذاوہ کی نبی اور ہدی کی تین تحقیر تو کجا، ان کی درد بھر تخفیف بھی گناہ کبیرہ تصور کرتے تھے۔جبکہ اس کے برعکس عیسائی اپنی مقدس کتاب کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد کسی اور نبی پر ایمان لانا ضروری نہ سمجھتے تھے۔لہذا پاوریوں کو مذہب اسلام پر زہر افشانیوں اور دنیا کی سب سے معصوم و مقدس ہستی، سرور کائنات، فرد عالم اس دایانبیاء و خاتم المرسلین حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات با برکات پر ہرزہ سرائیوں کے لئے کھلی چھٹی تھی۔چنانچہ اس سلسلہ میں ادب و احترام کا پاس تو کجا، وہ انسانیت کی حدود کو بڑی بے رحمی سے پھلانگ رہے تھے۔ایسی کتب جن میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ظلم کی حد تک یاوہ گوئی کی گئی تھی کروڑوں کی تعداد میں برصغیر میں شائع کی گئیں۔ان کتابوں میں جو د لاندار زبان استعمال کی گئی اس کا اندازہ اسی لگایا جاسکتا ہے کہ پادری عماد الدین نے جب کتاب "صدایتہ السلمین شایع کی تو وہ اس قدر دل آزار کلمات سے عمل تھی کہ اس پر اسے خود عیسائیوں نے ملامت کی۔چنانچہ پادری کر یوں کے زیر اہتمام شائع ہونے والا اخبار شمس الاخبار لکھنؤ اپنی ۱۵ راکتو بر شہرہ کی اشاعت میں رقمطراز ہے کہ :- پادری عماد الدین کی تصنیفات کی مانند نفرتی نہیں کہ جس میں گالیاں لکھی ہوئی ہیں اور اگر شاہ کی مانند پھر ندر ہوا تو اس شخص کی بدزبانیوں اور بے ہودگیوں سے ہوگا ہے ه: - اسکی علاوه کتاب وافع البستان مصنفه بادی را نگین سایشیخ الرجال مصنف ماسٹر رام چندر عیسائی۔سیرت ایسی احمد مصنفہ پادری تھا کہ اس اندر نہ بائیبل معتقد ڈپٹی عبدالله اتم -