حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 20
ہم سنتے سنتے تھک گئے۔دنور القرآن - روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۷۲ ۲۷۵) یہی نادان مولوی ، حضرت مرزا صاح سے بغض کی وجہ سے آپ کی بعض تحریرات کو پیش کر کے عوام الناس کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا حضرت مرزا صاحب نے حضرت عیسے علیہ السلام کی توہین کی ہے۔اور ان کے مقام بند کالحاظ نہیں رکھا۔مثال کے طور پر ایک یہ تحریر پیش کرتے ہیں کہ : " مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔بلکہ محبی بی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا۔اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سربر عطر ملا تھا۔یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں بیٹی کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔اور پھر یہ کہحضرت عیسی علیہ السلام نے بیٹی کے ہاتھ پر جس کو عیسائی کو جنا کہتے ہیں، جو پیچھے ایلیاء بنایا گیا۔اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور ان کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے۔اور یہ بات حضرت یحیی کی فضیلت کو بیدا بہت ثابت کرتی ہے۔کیونکہ متقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ بیٹی نے بھی کسی کے ہاتھ پر توبہ کی تھی یہ د واقع البیان و صد حاشیه - روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ ص ۲۳) ان مولویوں کی منافقت تو اسی بات سے قطعی طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ جب عیسائی میاد سراسر فلم کی راہ سے انتہائی شدت کے ساتھ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے صل اللہ علیہ وسلم کی شان