حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 21
۲۱ میں گستاخی کرتے ہیں تو ان کے دل میں ذرہ بھر بھی غیرت ایمانی کروٹ نہیں لیتی۔اور یہ اپنی خوابیدہ آنکھیں تک نہیں کھولتے مگر جب ان تحریروں کا جن میں ہمارے آقا و مقتدا حضرت محمدمصطفی صل اللہ علیہ وسلم کی حد درجہ تو ہین کی گئی ، عیسائیوں کے مسلمات میں سے ہی الزامی جواب دیا جائے تو یہ لوگ آسمان سر یہ اُٹھا لیتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب کی محترہ بالا تحریر کو ملاحظہ فرمائیں اس میں اناجیل کے خیس بیان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کیا اس میں وہ عیسی مذکور نہیں جو انا جیل کا میسوع ہے۔قرآن کریم میں جس نبی اللہ علی علیہ السلام کا ذکر ہے اس کے ساتھ تو ایسے کسی قصہ کا ذکر نہیں۔اس لئے اگر یہاں یسوع کی بجائے عیسی یا سیح لکھا بھی گیا تو یہ قصہ خود ہی ثابت کرتا ہے کہ یہاں لانہ گا انا جیل کا یسوع ہی مراد ہے نہ کہ حضرت عیسی علیہ اسلام جن کا ذکر قرآن کریم میں ہی اللہ اور نبی اسرائیل کے رسول کے طور پر آیا ہے اور جو سب الزاموں سے پاک ہو کہ بڑی کامیابی اور کامرانی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوا۔جس کی پیدائش بھی سلامتی کے زیر سایہ ہوئی اور جس کی وفات بھی سلامتی کی آغوش میں ہوئی۔قبل اس کے کہ ہم قرآن کریم میں مذکو نبی اللہ حضرت علی علیہ السلام کے متعلق حضرت مرزا صاب کے جذبات محبت اور عقیدہ بیان کریں۔یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ عیسائیوں کو الزامی جواب دیتے ہوئے آپ نے مذکورہ بالا تحریر میں حضرت یحی اور اناجیل میں مذکور سیح کے حالات کا موازہ نہ کرتے ہوئے حضرت یحی کے لئے قرآن میں استعمال کردہ لفظ " حصورا کی جو تشریح بیان فرمائی ہے وہ تفسیر ابن جریر ، تفسیر جامع البیان، تفسیر کمالین تفسیر ترجمان القرآن کے عین مطابق ہے۔جن میں حصور" کا مطلب یہ لکھا ہے۔الذي لا يقرب النساء اور الّذی لا یأتی النساء کہ جو عورتوں کے قریب نہ جاتا ہو۔انا جیل میں حضرت بجلی کے متعلق ایک بھی ایسا واقعہ نہیں تھا کہ جس میں آپ کے عورتوں سے اختلاط کا پتہ چلے جبکہ انہیں اناجیل میں مسیح کے عورتوں سے ملنے جلنے کے متعدد واقعات درج ہیں۔جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں معترض مولویوں کے مقتدا مولوی رحمت اللہ صابها جرمکی