حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب

by Other Authors

Page 22 of 27

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 22

۲۲ نے اپنی کتاب انسانة الاوهام کے صفحہ ۳۰۰ پر لکھا ہے :۔" جناب مسیح اقرار می فرمایند که بی نه نان میخوراندند نه شراب سے آشنا میدند و آنجناب شراب هم می نوشیدند و یحیی در بیابان می ماندند و همراه جناب مسیح بسیار زنان همراه می گشتندند و مال خود را می خورانیدند و زنان فاحشه پانها انجناب را بوسیدند و آنجناب مرتا و مریم را دوست میداشتند و خود شراب برائے نوشیدند دیگر کسان عطا می فرمودند؟ کہ جناب مسیح خود اقرار فرماتے ہیں کر بھی نہ عورتوں سے میل رکھتے تھے اور نہ شراب پیتے تھے لیکن آپ خود شراب پیتے تھے۔اور آپ کے ہمراہ کئی عورتیں چلتی پھرتی تھیں۔اور آپ اُن کی کمائی سے کھاتے تھے اور ایک بدکار عورت نے آپ کے پاؤں کو بوسہ دیا اور مرتا اور مریم آپ کی دوست تھیں۔آپ خود بھی شراب پیتے تھے اور دوسروں کو بھی دیتے تھے۔اب دیکھئے مولوی کہا جیتی صاحب نے یہاں مسیح ہی کا ذکر کیا ہے یسوع کا نہیں ، لیکن نیه واقعات خود گواہی دیتے ہیں کہ یہ سیح انا جیل کا یسوع تھا نہ کہ قرآن کریم کے حضرت علی علیہ السلام۔یہی نوعیت حضرت مرزا صاحب کی تحریروں میں لفظ عیسی مسیح کے استعمال کی ہے۔پھر یہ بھی دیکھیں کہ جو غرض حضرت مرزا صاحب کی تحریر کی ہے وہی مولوی مہاجرنگی صحاب کی اس تحریر کی ہے اور دونوں کا مال بھی ایک ہی ہے۔پھر ایسی تحریروں پر اعتراض کرنا ان کاسہ لیس مولویوں کا حضرت مرزا صاحب پر نہیں بلکہ اپنے مقتدا و راہنما مولوی رحمت الله مهاجرتی پر حملہ ہے یا پھر گذشته بزرگ مفترین پر۔پس حضرت مرزا صاحب کے بغض اور عناد کی وجہ سے یہ ان مولویوں کی مجبوری تھی یا مصلحت خوشیشی که سرور دو عالم حضرت محمد صلے صلی اللہ علیہ وسلم کے ان پر تو دار گوارا کر لئے مگر اس فرضی که محمدمصط دامن •