حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا جواب — Page 16
14 اور آپ نے تمام مذاہب کے علماء کو لیا عصہ یہ تلقین کی کہ مذہبی مناظرات نہیں بجائے اس کے کہ دوسرے مذاہب پر نا جائز گندا اچھالا جائے، یہ انداز اختیار کیا جانا چاہیئے کہ صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں۔تانیا آپ نے یہ اصول پیش کیا کہ اگر دوسرے مذہب کے عقائد کا رو مقصود ہو تو اس مذہب کے مسلمات کے اندر رہ کر دلائل پیش کئے جائیں۔بقیہ حاشیہ - عقل و دولت کی زبر دست طاقتیں اس حملہ آور کی پشت گری کے لئے ٹوٹی پڑتی تھیں اور دوسری طرف ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ توپوں کے مقابل پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت کا قطعی وجود ہی نہ تھا۔۔۔۔کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر خچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اسکی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اور حق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا دھواں علم ہو کر اڑنے لگا۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کہ اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یاد گار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے قائم رہے گا۔د اخبار وکیل امرتسر مئی ۱۹۰۰ ۶ - جواله بدتر قادیان ۱۸ جون منه)