حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 6
آپ پیدا ہوئے۔”انسانی جواہرات کا خزینہ پڑھ کر آپ کو علم ہوا کہ آپ کے خاندان میں نسلوں سے جو اچھی صفات پیدا ہورہی تھیں وہ آپ میں اعلیٰ ترین صورت میں جمع ہو گئیں۔اب ہم آپ کو پیارے آقا کی پیدائش، رضاعت اور ابتدائی بچپن کے حالات سناتے ہیں۔اچھے بچو! آپ کو یاد ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نسل میں رسول عطا کئے جانے کے ساتھ خانہ کعبہ کی حفاظت کی دُعا بھی کی تھی۔اللہ پاک نے یہ دعا قبول فرمائی۔رسول بھی عطا فرمائے اور خانہ کعبہ کی حفاظت بھی کی وہ اس طرح کہ اڑھائی ہزار سال تک کسی نے خانہ کعبہ پر حملہ ہی نہیں کیا اور جب ابرہہ نے حملہ کیا تو عبدالمطلب نے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر صاف کہہ دیا کہ خدا اپنے گھر کی خود حفاظت کرے گا۔کیسا جواب دیا؟ وہ تو بہت عقلمند تھے۔دراصل یہ سارا واقعہ اور یہ جواب سب کچھ اللہ کی خاص مدد دکھانے کا الہی انتظام تھا۔پھر ننھے ننھے پرندے کنکر لے کر آئے اور ابرہہ کے لشکر پر گرائے جس سے فوج کتوں کی طرح مرنے لگی۔یہ واقعہ ماہ محرم میں ہوا تھا۔اُسی زمانے کی بات ہے عبدالمطلب نے ایک خواب دیکھا کہ ایک درخت ہے جس کی چوٹی آسمان تک ہے اس کی شاخیں مشرق اور مغرب میں دُور دُور تک پھیلی ہوئی ہیں۔یہ درخت سورج سے کئی گنا زیادہ روشن ہے۔قریش کا ایک گروہ اس کی شاخوں سے لٹکا ہوا ہے ایک دوسرا گر وہ اس کی شاخوں کو کاٹنے کے لئے آگے بڑھتا ہے۔اس گروہ کو قریش کا ایک خوبصورت جوان جس کے جسم سے خوشبو نکل رہی ہے مار مار کر بھگاتا ہے۔اس وقت کے علماء نے اس خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ آپ کی اولاد میں وہ نبی پیدا ہو گا جس کی بشارت آسمانی صحیفوں میں موجود ہے۔امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں کہ جب رسول اقدس مطالعہ کا ظہور ہوا تو جناب ابو طالب کہا کرتے