حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 21 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 21

21 پاس آرام سے رہو۔ابوطالب کو اس پیارے بچے سے اس لئے بھی پیار تھا کہ وہ آپ کے سگے بھائی کی اولادتھا۔عبدالمطلب کی کئی بیویاں تھیں جن میں سے فاطمہ بنت عمرو سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ابوطالب بڑے بیٹے تھے اور عبداللہ چھوٹے تھے۔ایک بیٹی کا نام اردوی تھا اور ایک اُمّ حکیم جو حضرت عبداللہ کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئی تھیں۔بھائی جوانی میں فوت ہو گیا تھا۔پھر اس معصوم بچے کی والدہ اور دادا کے نہ رہنے سے بھی قدرتی طور پر محبت میں شدت آگئی۔ابوطالب بعض دفعہ اپنے بچوں کے سامنے کہتے کہ یہ میرا بچہ ہے رات کو عموماً اپنے ساتھ سلاتے تھے یہی کوشش رہتی کہ حضرت محمد صل اللہ ہر وقت آپ کی آنکھوں کے آگے رہیں۔کبھی کسی کام سے باہر جاتے تو آکر تسلی کرتے کہ آپ بھوکے تو نہیں رہے۔آپ کی بچی بھی آپ پر سختی نہیں کرتی تھیں۔دراصل آپ اتنی پیاری اداؤں کے مالک تھے کہ تختی کی ضرورت ہی پیش نہ آتی تھی۔آپ کے چچا کے گھر میں جب کھانا تقسیم ہوتا تھا تو آپ کبھی بڑھ کر مانگا نہیں کرتے تھے باقی بچے لڑ جھگڑ کر مانگتے مگر رسول کریم صلی اللہ بچپن کی عمر میں بوجہ اپنی ذہانت اور سمجھ کے ( بعض بچے جو ذہین نہیں ہوتے وہ چچی سے بھی لڑ جھگڑ کر چیزیں مانگ لیتے ہیں جس طرح ماں سے مانگی جاتی ہیں مگر یہ محبت کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اُن کی عقل کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے ) یہ محسوس کرتے تھے کہ میں اس گھر سے بطور حق کچھ نہیں مانگ سکتا۔مجھ پر تو میرے چا اور چی اس