حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن

by Other Authors

Page 17 of 32

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن — Page 17

17 دین کی سمجھ اور روحانی علوم دیئے گئے۔دوسروں پر رعب دیا گیا کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں بلکہ خاص بچہ ہے۔یہ واقعہ ایک خاص نشان تھا مگر حلیمہ ڈرگئیں اور بچے کو واپس کرنے کے ارادے سے چلیں۔حلیمہ مکہ پہنچیں تو مکہ کی گلیوں میں آپ ادھر اُدھر ہو گئے۔بہت تلاش کیا گیا مگر آپ نہ ملے گھبرا کر عبدالمطلب کے پاس گئیں کہ میں محمد صل اللہ کو لے تو آئی تھی۔مگر وہ گم ہو گئے ہیں۔عبدالمطلب کعبہ کے پاس جا کر دعا کرنے لگے اتنے میں قریش کے ایک اور شخص ورقہ بن نوفل آپ کو لے کر عبد المطلب کے پاس آئے۔آپ نے بچے کو بہت پیار کیا اور کندھے پر بٹھا کر کعبہ کا طواف کیا اور آپ کے لئے بہت دعا کی اور پھر حضرت آمنہ کے پاس بھیجا۔(سیرت ابن ہشام جلد اوّل صفحہ 113) آپ اپنی امی کے ساتھ رہنے لگے۔دونوں بے حد خوش تھے پیاری پیاری باتیں کرنے والا صحت مند حسین بچہ اور ترسی ہوئی ماں جس نے شوہر کی جدائی میں بڑا مشکل وقت گزارا تھا۔مالی تنگی اس قدر برداشت کی تھی کہ کبھی سوکھا گوشت ہی کھا کر گزارا کیا تھا۔مگر اس چھوٹے سے گھر میں بچے پیار کی دولت تھی۔حضرت آمنہ ننھے شہزادے کو بہت پیار کرتیں مگر اُن کو اس چاند سے بیٹے کو پیار کرنے کا زیادہ موقع نہ ملا۔ہوا یوں کہ حضرت آمنہ کے نہال یثرب (مدینہ ) میں رہتے تھے۔آپ ان سے ملنے اور اپنے شوہر کی قبر پر دعا کرنے جایا کرتی تھیں۔آپ نے پروگرام بنایا کہ اس دفعه محمد حتل اللہ کو بھی ساتھ لے جائیں۔دونوں حضرت عبداللہ کی قبر کی زیارت ایک ساتھ کریں۔آپ کی عمر اس وقت چھ سال تھی جب آپ اپنی والدہ اور اُم ایمن کے ساتھ مکہ سے سفر پر روانہ ہوئے۔مدینہ میں بنو نجار آپ کے رشتہ دار تھے۔آپ وہاں ایک ماہ ٹھہرے۔اپنے ہم عمروں میں خوب کھیلے کو دے۔یہیں پر آپ نے ایک تالاب میں تیر ناسیکھا۔باپ کی قبر کی زیارت کی ، واپسی میں مدینہ اور مکہ کے درمیان