سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

by Other Authors

Page 4 of 24

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 4

5 4 آپ کے والد کپڑے کے تاجر تھے اور کافی امیر آدمی تھے۔اس لیے آپ کی پرورش بڑے ناز و نعمت سے ہوئی۔بچپن سے ہی آپ کی طبیعت نیکی کی طرف مائل تھی۔شرم وحیا حد درجہ تھی۔آپ کے والدین نے آپ کی اچھی تربیت کی اور لکھنا پڑھنا سکھایا۔اس زمانہ میں سکول وغیرہ تو تھے نہیں اس لیے صرف وہی لوگ لکھنا پڑھنا سیکھ سکتے تھے جو بہت امیر اور با اثر خاندانوں میں سے ہوتے تھے۔آپ کو بُرے کاموں سے نفرت تھی۔آپ ہمیشہ بُرے کاموں سے بچتے تھے۔بڑے ہو کر آپ نے اپنے خاندانی پیشہ تجارت کو اپنایا جس کے باعث آپ کو کئی دوسرے ملکوں میں بھی جانے کا موقع ملا۔قبول اسلام آپ کی عمر اس وقت 34، 35 سال تھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حکم سے دعوی نبوت فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے قبیلہ بنو ہاشم میں سے تھے اور آپ بنو امیہ میں سے تھے۔اپنے والد کی طرف سے پانچویں اور والدہ کی طرف سے چوتھی پشت میں آپ کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا تھا۔اگر چہ آپ کے بزرگوں یعنی حرب بن امیہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب کے درمیان قریش کی سرداری کا جھگڑا ہوا تھا اور بنو ہاشم اور بنوامیہ کے تعلقات زیادہ اچھے نہ رہے تھے تا ہم آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بلند اخلاق کی وجہ سے بہت اچھا سمجھتے تھے۔تجارت میں محنت اور دیانتداری کی وجہ سے ساری قوم نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور امین کا خطاب دیا تھا۔اس زمانے میں تجارت ہی سب سے زیادہ عزت والا پیشہ شمار ہوتا تھا۔حضرت ابوبکر کا بھی یہی پیشہ تھا اور ان کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے اور حضرت ابو بکر کے ساتھ حضرت عثمان کے بھی دوستانہ تعلقات تھے۔حضرت ابو بکر صدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں سب پر سبقت لے گئے۔ان دنوں حضرت عثمان تجارت کے سلسلہ میں شام گئے ہوئے تھے۔واپس آئے تو حضرت ابوبکر نے حضرت عثمان بن عفان ، حضرت زبیر بن العوام، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔یہ پانچوں حضرات اسلام قبول کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔چنانچہ حضرت ابوبکر ان کو لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔چنانچہ باری باری سب نے بیعت کی۔ان میں حضرت عثمان سب سے پہلے بیعت کرنے والے بنے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے افراد یعنی حضرت خدیجہ، آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ ، چچا زاد بھائی حضرت علی ( جو حضور کے گھر میں بچوں کی طرح پرورش پا رہے تھے ) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی دوست حضرت ابوبکر صدیق کے بعد جو مرد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا وہ حضرت عثمان بن عفان تھے۔اس لئے ایک لحاظ سے اسلام لانے والوں میں آپ کا دوسرا نمبر اور دوسرے لحاظ سے پانچواں نمبر بنتا ہے۔بہر حال حضرت عثمان اسلام میں داخل ہونے والے اس پیشر وگروہ میں شامل ہوئے جنہیں السَّابِقُونَ الاَوَّلُون یعنی سب سے پہلے ایمان لانے والے کہا جاتا ہے۔جن کی قرآنِ کریم نہایت خوبصورت الفاظ میں تعریف فرماتا ہے۔حضرت رقیہ سے نکاح تین سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے سلسلہ کو قدرے مخفی رکھا اور اپنے ملنے والوں یا آگے ان کے ملنے والوں تک تبلیغ کا دائرہ محدودرہا۔دعویٰ نبوت کے چوتھے سال آغاز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کھلم کھلا تبلیغ کرنے کا حکم دیا اور جلد ہی مکہ