سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

by Other Authors

Page 20 of 24

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 20

37 36 بارش کے ایام میں چھت ٹپکتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حضرت عثمان نے مسجد نبوی کے ملحقہ مکانوں کو خرید کر مسجد نبوی کی توسیع کرنے کی نمایاں خدمت کی تھی۔اپنی خلافت کے دوران آپ نے اپنے پاس سے پیسہ خرچ کر کے مسجد کا فرش، دیوار میں اور چھت پختہ کروائی۔تعمیرات کے منصوبے حضرت عثمان کے دور خلافت میں کئی نئی تعمیرات ہوئیں۔وسیع تعمیرات کے منصوبے بنے اور رفاہ عامہ کے کام ہوئے۔حضرت عثمان نے کئی پبلک عمارات بنوائیں۔سڑکیں، پل، مسافر خانے اور سرائیں تعمیر ہوئیں۔کوفہ کی سرائے کو وسیع کیا گیا۔مدینہ اور نجد کی راہ میں نئی سرا ئیں بنوائی گئیں۔راستوں پر میٹھے پانی کے کنویں کھدوائے گئے۔مرکز اسلام مدینہ کو سیلاب سے بچانے کے لیے ایک بند بنوایا گیا۔ایک برساتی نہر کھود کر اس کا رخ تبدیل کیا گیا۔ہر صوبے کی بنیادی ضروریات کو مد نظر رکھ کر تعمیرات کے منصوبے بنائے گئے۔غرضیکہ حضرت عثمان کے دور خلافت میں ہر طرح سے وسعت پیدا ہوئی۔آپ ذاتی دلچسپی لے کران منصوبوں کو مکمل کروایا کرتے تھے۔آپ کے عہد میں جو علاقے فتح ہوئے تھے ان میں فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی گئیں۔اسی طرح قومی چراگاہوں میں بھی اضافہ کیا گیا اور لوگوں کو پہلے کی نسبت زیادہ سہولتیں میسر آنے لگیں۔فتنوں کا ظہور اور حضرت عثمان کی شہادت جہاں ملک پر ملک فتح ہوتے گئے اور فوج در فوج لوگ اسلام میں داخل ہوتے رہے وہاں حضرت عثمان کی خلافت کے نصف آخر میں فتنوں نے سر اٹھایا۔بعض غیر تربیت یافتہ نومسلموں نے پرانے مسلمانوں کے ساتھ حسد اور رقابت شروع کر دی اور خلیفہ وقت کی طرف سے مقرر کیے ہوئے حکمرانوں پر تنقید کی۔مال ودولت کے لالچ میں اور شریعت کی پابندیوں سے آزادی حاصل کرنے کے لیے وہ چاہنے لگے کہ یہ نظام درہم برہم ہو کر حکومت ان کے ہاتھوں میں آجائے۔لیکن ان فتنوں کا اصل محرک ایک یہودی عبداللہ بن سبا تھا جو یمن کا رہنے والا اور نہایت بد باطن انسان تھا۔اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھ کر عبداللہ بن سبا اس غرض سے مسلمان ہوا کہ کسی طرح مسلمانوں میں فتنہ ڈلوائے اور دوست بن کر دشمن کا کام کرے اور اتفاق کی آڑ میں اختلاف پیدا کرے اور نیکی کے پردے میں بدی کی تحریک کرے۔یہ شخص حضرت عثمان کی خلافت کے پہلے نصف میں مسلمان ہوا اور تمام اسلامی ممالک کا دورہ اس غرض سے کیا کہ ہر جگہ کے حالات سے خود واقفیت پیدا کرے اور اپنے مطلب کے آدمیوں کا انتخاب کر کے مختلف ملکوں میں شرارت کے مراکز قائم کرے۔اس وقت سیاست کے مرکز بصرہ کوفہ، دمشق اور فسطاط تھے۔پہلے اس نے ان مقامات کا دورہ کیا اور حکومت کے سزا یافتہ لوگوں کو اپنا ہم خیال بنایا۔تین سال اس نے اپنی کارروائی کو خفیہ رکھا اور پھر کھلم کھلا لوگوں میں غلط اور جھوٹی باتیں پھیلا کر خلافت کے بارہ میں بدظن کرنے کی کوشش کرتا رہا۔اس نے یہ عقیدہ پیدا کیا کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی حضرت علی ہیں۔مصر میں اس نے ایک خفیہ جماعت تیار کی اور اپنے نمائندے دوسرے صوبوں میں اپنے خیالات کی اشاعت کے لیے بھجوائے۔حضرت عثمان کو جب اس خفیہ تحریک کا علم ہوا تو آپ نے بعض صحابہ کو مختلف صوبوں میں بھجوایا۔آپ کے نمائندے صوبوں میں امن وامان کی خبر لائے تاہم