سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 21
39 38 حضرت عثمان نے تمام گورنروں کو مدینہ بلوا کر مشورہ کیا اور فیصلہ فرمایا کہ نرمی سے ایسے لوگوں کو تمام گورنر اپنے اپنے ملک میں سمجھائیں اور خود بھی سختی کرنے سے اجتناب کیا۔آپ نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ وہی فتنہ نہ ہو جس کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے ہیں۔امیر معاویہؓ نے آپ کو شام اپنے ساتھ لے جانے کی پیش کش کی لیکن آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ کو چھوڑنا مناسب نہ سمجھا اور نہ ہی امیر معاویہ کو اجازت دی کہ وہ آپ کی حفاظت کے لیے مدینہ میں فوجیں بھیجیں۔عبداللہ بن سبا اور اس کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ مختلف لوگوں کے وفودمدینہ بھیج کر حضرت عثمان پر الزام لگائے جائیں اور آپ کو خلافت سے علیحدہ ہونے کے لیے کہا جائے۔چنانچہ 34 ہجری میں حج کے بعد اس کے کارندے مدینہ آئے۔آپ پر اعتراض کر کے خلافت چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا۔آپ نے ان کے بے بنیاد اعتراضات کے بڑے صبر وتحمل سے جواب دیئے۔چنانچہ لا جواب ہو کر یہ لوگ مدینہ سے واپس جانے کے ارادہ سے نکل آئے۔واپس جا کر انہوں نے مصر، کوفہ اور بصرہ میں اپنے ہم خیال لوگوں کو چٹھیاں لکھیں کہ عمرہ کے بہانہ سے نکل کر مدینہ میں جمع ہو جائیں اور حضرت عثمان کو شہید کر دیا جائے۔چنانچہ ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ باغی ہزاروں کی تعداد میں مدینہ میں داخل ہوئے اور چند روز تک حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کئے رکھا۔حضرت عثمان نے مدینہ کو خونریزی سے بچانے اور صحابہ کے وجودوں کو باقی رکھنے کے لیے تمام صحابہ حتی کہ اپنے گھر والوں اور مدینہ کے دوسرے مسلمانوں کو مسلح ہونے سے منع فرمایا۔آپ کے منع کرنے کے باوجو دصحابہ کرام اور ان کے بچوں (جن میں حضرت علی کے بیٹے ، حضرت زبیر اور حضرت طلحہ کے بیٹے خاص طور پر قابل ذکر ہیں ) نے حضرت عثمان کے گھر کا پہرہ دینا شروع کر دیا۔جب باغیوں نے گھر کے اندر داخل ہونا چاہا تو انہوں نے تھوڑی تعداد کے باوجود باغیوں سے مقابلہ کیا۔یہ دیکھ کر باغیوں نے حضرت عثمان کے گھر کے دروازے کو آگ لگا دی اور ان میں سے بعض بد بخت ساتھ والے مکان سے دیوار پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور حضرت عثمان کو شہید کر دیا۔یہ 18 ذوالحجہ 35 ہجری مطابق 21 مئی 654 ء کا واقعہ ہے۔کہتے ہیں جس وقت آپ کو شہید کیا گیا اس وقت آپ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے۔آپ کی ایک بیوی نائلہ نے بچانا چاہا لیکن ان کی ہتھیلی کٹ گئی اور دشمن آپ کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ان کا مقصد یہ تھا کہ خلافت اور مرکزیت دونوں ختم ہو جا ئیں۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 82 سال تھی۔