سوانح حضرت عثمان غنی ؓ

by Other Authors

Page 18 of 24

سوانح حضرت عثمان غنی ؓ — Page 18

33 32 آذربائیجان، آرمینیا ، طبرستان، فارس، خراسان، طخارستان، بلخ ، خوارزم، کے مقامات فتح ہوئے اور فتوحات کا بل اور زابلستان سے آگے پہنچ گئیں۔شام کا ملک پہلے چار صوبوں دمشق، اردن جمص اور قنسرین پر مشتمل تھا۔بعد میں فلسطین کو بھی شام میں شامل کر لیا گیا۔حضرت عمرؓ کے عہد میں امیر معاویہ اردن اور دمشق کے گورنر مقرر ہوئے پھر حضرت عثمان کے عہد میں سارے ملک شام کے گورنر بنا دیئے گئے۔معاویہ کا مقابلہ زیادہ تر رومیوں سے رہتا تھا اور چونکہ دشمن بحری راستہ سے بھی حملہ کرتے تھے اس لئے حضرت عثمان کے عہد میں پہلی مرتبہ مسلمانوں نے بحری بیڑا بنایا۔امیر معاویہؓ نے رومیوں سے بحری جنگیں کر کے شام کا ساحلی علاقہ اور قبرص وغیرہ فتح کر لیے اور قسطنطنیہ پر بھی لشکر کشی کی لیکن قسطنطنیہ فتح نہ ہو سکا۔مصر میں عمرو بن العاص گورنر تھے۔رومیوں نے ہر قل سے امداد طلب کر کے ایک ز بر دست بحری بیڑا روانہ کیا اور رومی فوجیں اسکندریہ میں اتر گئیں۔عمرو بن العاص نے مقابلہ کر کے اسکندریہ کو فتح کرلیا۔حضرت عثمان کے عہد کی فتوحات میں شمالی افریقہ کی فتح ایک شاندار فتح کی حیثیت رکھتی ہے۔اسکندریہ کے معرکہ سے فارغ ہو کر عمرو بن العاص حضرت عثمان کی اجازت سے عبد اللہ بن سعد کے زیر کمان ایک لشکر تیار کر کے افریقہ کی جانب روانہ ہوئے۔انہوں نے طرابلس فتح کیا۔بعد میں عبداللہ بن سعد کو ہی حضرت عثمان نے مصر کا گورنر بھی مقرر کر دیا۔عبداللہ بن سعد اور عبداللہ بن نافع نے مل کر طرابلس سے طنجہ تک کا علاقہ فتح کیا۔وہاں قیصر کی طرف سے جر جبیر ( گریگوری ) بادشاہ تھا۔یہاں لمبا عرصہ لڑائی ہوئی۔مدینہ سے دور ہونے کی وجہ سے حضرت عثمان کو خبر میں کم ملتی تھیں۔چنانچہ آپ نے عبداللہ بن زبیر کو شکر دے کر عبد الله بن سعد کی مدد کے لیے بھیجا۔جرجیر ( گریگوری ) نے اعلان کیا کہ جو شخص مسلمانوں کے سردار کا سرکاٹ کر لائے گا ایک لاکھ دینا ر ا سے انعام دیا جائے گا۔نیز وہ اپنی بیٹی فلپانا کا نکاح بھی اس سے کر دے گا۔اسلامی لشکر نے عبداللہ بن سعد کو پیچھے رہنے کا مشورہ دیا۔جب عبداللہ بن زبیر کمک لے کر پہنچے تو انہوں نے اعلان کیا جو شخص جر جیر گریگوری کو قتل کرے گا ایک لاکھ دینار اسے انعام دیا جائے گا اور اُس کی بیٹی فلپانا سے اس کا نکاح کر دیا جائے گا نیز اسے بعقو بہ کا والی مقرر کر دیا جائے گا۔اس سے مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے اور چند دنوں میں رومی پسپا ہو گئے۔جرجیر ( گریگوری) عبداللہ بن زبیر کے ہاتھوں قتل ہوا۔شمالی افریقہ کی فتح کے بعد حضرت عثمان نے افریقہ کا الگ صوبہ بنا دیا اور اس کا گورنر عبدالله بن نافع کو مقرر فرمایا۔مصر کی حکومت عبد اللہ بن سعد کے پاس رہی۔عبداللہ بن سعد کو حضرت عثمان نے مال غنیمت کا پانچواں حصہ بطور انعام دیا جس کا وہ پہلے وعدہ کر چکے تھے۔اور عبد اللہ بن زبیر کو ایک لاکھ روپیہ دیا اور جرجیر ( گریگوری) کی بیٹی کی شادی عبداللہ بن زبیر سے کر دی گئی۔30 ہجری کے قریب رومیوں نے مصر اور شام اور شمالی افریقہ کو واپس لینے کے لیے پوری تیاری کے ساتھ چھ سوکشتیوں کا ایک جنگی بیڑا تیار کیا اور سواحل شام سے لے کر اسکندریہ تک پھیلا دیا۔مصر سے عبداللہ بن سعد اسکندریہ کی طرف بڑھے اور شام سے امیر معاویہؓ کو بحری بیڑا بھجوانے کا ارشاد ہوا۔خشکی کی جنگ میں قیصر روم قسطنطین خود بھی شامل ہوا۔بحری جنگ امیر معاویہؓ نے خود لڑی۔مسلمانوں نے اپنی تمام کشتیوں کو آپس میں باندھ لیا اور رومیوں کو بھگا دیا۔اس جنگ میں مسلمانوں کو بہت سی کشتیاں ملیں جن کو اسلامی بیڑے میں شامل کر لیا گیا اور اس طرح مسلمانوں کا بحری بیڑا بہت مضبوط ہو گیا۔اس سے پہلے اسلامی فوجوں کو