حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 13
23 22 قائمقام محاسب۔1921ء: قائمقام جنرل سیکرٹری صدر انجمن ،رکن وفد جس نے وائسرائے ہند سے ملاقات کی۔1922 ء تا 1947ء: رکن شوری اور 16 بار مختلف کمیٹیوں کے رکن۔قلمی خدمات خلافت اولی کے اواخر میں خلافت کے متعلق ایک طبقہ نے خیالات فاسدہ کی اشاعت کا آغاز کیا۔حضرت خلیفہ امسیح الاول نور اللہ مرقدہ نے پورے زور سے ان کا ابطال اور تردید کی۔حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب بھی اس جہاد میں شرکت 1922ء: سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ، ناظم جلسہ سالانہ اندرون شہر ،شہزادہ ویلیز کرنے والوں میں سے صف اول میں تھے جو آپ کی خلافت سے محبت کی آئینہ دار ہے کو تحفہ پیش کرنے والے وفد کے رکن۔اور آپ کے نزدیک خلافت کا مقام نہایت ارفع و اعلیٰ تھا۔آپ نے متعدد تصانیف اور 1923ء: سیکرٹری صدر انجمن احمد یہ، رکن وفد برائے ملاقات گورنر پنجاب مضامین کے ذریعہ سے خلافت کے ساتھ اپنی محبت کا ثبوت دیا اور مخالفین کو دندان شکن 1924ء: حضرت مصلح موعود کے سفر مغربی ممالک کے وقت مجلس شوری کے رکن۔جواب دیئے۔1925ء: قائمقام افسر بہشتی مقبرہ اور پھر سیکرٹری بہشتی مقبرہ ہوئے اور تا وفات اس عہدہ پر فائز رہے۔1927ء: قائمقام ناظر تعلیم وتربیت 1930-31ء ، 32-1931ء افسر صیغہ جائیداد ( رفقائے احمد جلد 2 صفحہ 50 تا 52 حاشیہ) خلافت اولی اور ثانیہ میں آپ کو ہار ہا امام الصلوۃ ہونے اور خطبات جمعہ کے علاوہ درس دینے کا موقع بھی ملتا رہا۔اس کے علاوہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے قادیان سے باہر ہونے کی صورت میں آپ کو متعدد بار امیر مقامی قادیان ہونے کا شرف حاصل کرہا ہے۔ایک اور سعادت جو آپ کے حصہ میں آئی وہ یہ ہے کہ آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے دو نکاح پڑھے۔( رفقائے احمد جلد نمبر 2 صفحہ 109 ) ( رفقائے احمد جلد 5 حصہ دوم صفحہ 155 تا 160 )۔۔۔۔۔