حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 16
29 28 شادی عزیز سید مبارک احمد سے کر دوں آپ عزیز کو میرے پاس کشمیر بھیج دیں تا کہ وہ نورفراست بھی یہاں کے حالات دیکھ لے۔“ جب سید مبارک احمد صاحب سرور کشمیر ان کے پاس گئے تو ان کے تایا جان ان سے کہنے لگے کہ ” میری عمر کا آخر ہے نرینہ اولا دکوئی نہیں میری یہ خواہش ہے کہ آں عزیز کو بطور خانہ داماد یہاں رکھوں۔اس طرح میری جائیداد خاندان سے باہر جانے سے محفوظ رہے گی اور تم مستقل طور پر یہاں رہائش رکھو تا کہ میرے بعد جائیداد کے مالک بنو۔“ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کو ایسی فراست عطافرماتا ہے کہ جس سے وہ بعض امور پر قبل از وقوع اطلاع پا لیتے ہیں۔حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب بھی ایسے ہی خدا رسیدہ بندے تھے جواللہ تعالی کے عطا کردہ نور فراست سے سرفراز کئے گئے تھے۔جس کی ایک مثال آپ کا حضرت مرزا بشیر الدین محمود صاحب (خلیفہ اسیح الثانی) کے بچپن میں ہی آپ کو مستقبل میں ایک عظیم الشان وجود کے طور پر دیکھنا ہے۔چنانچہ مولانا شریف احمد صاحب سابق ( رفقائے احمد جلد 5 حصہ سوم صفحہ 80) مربی بلا د مغربی افریقہ و بلا عر بیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب فرمایا صاحبزادہ سید مبارک احمد سرور صاحب نے یہ سارا معاملہ اپنے والد صاحب کے کرتے تھے: سامنے رکھا تو اس پر والد صاحب نے جو کہا اس کا ذکر آپ یوں کرتے ہیں: جب حضرت خلیفہ صحیح ثانی ایدہ اللہ تعالی بھی بچے تھے اور مدرس تعلیم حضرت والد صاحب کا جواب آیا تو سخت غصہ سے بھرا ہوا تھا۔جس کا لب لباب الاسلام میں تعلیم پاتے تھے اور میں بھی مدرسہ تعلیم الاسلام میں پڑھایا کرتا تھا اس وقت یہ تھا کہ تم کو شرم آنی چاہیے کہ تمہارے والد نے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے مسیح کی خاطر اپنا میں نے خواب میں دیکھا (جس کا مفہوم یہ ہے۔خواب میں کشتی وغیرہ بنانے اور اس کا وطن اور اقارب کو چھوڑ چھاڑ کر قادیان ڈیرہ آجمایا اور دنیوی حرص و آس کو خیر باد کہتے نا خدا بنانے کا ذکر تھا) کہ آپ کی بہت بڑی شان ہوگی۔اس وقت سے لے کر آخر تیک ہوئے پشاور کالج کی اعلیٰ ملازمت ترک کر دی اور قادیان میں پندرہ روپے کی میں جب آپ والی کلاس میں جاتا اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی وہاں موجود ہوتے تو ملازمت قبول کر لی اور آج تک اپنے بھائیوں سے جدی جائیداد کا حصہ یا اراضی کا غلہ میں کرسی پر نہیں بیٹھتا تھا بلکہ کھڑا ہو کر ہی پڑھایا کرتا تھا اور اس بات کو سوء ادب خیال نہیں لیا۔حالانکہ میرا بھی ویسا ہی حق تھا جیسا کہ ان کا تھا۔لیکن مجھے تم پر افسوس ہے کہ تم کیا کرتا تھا کہ میں آپ کے سامنے کرسی پر بیٹھوں اور یہ خواب میں نے حضرت خلیفہ دین چھوڑ کر دنیا کی طرف جانا چاہتے ہو۔حالانکہ تمہیں میری طرح دین کو دنیا پر مقدم اسیح الثانی کو انہی دنوں میں سنا دیا تھا اور کہا تھا صاحبزادہ صاحب ! اس وقت ہمارا بھی رکھنا چاہیے تھا۔تم فوراً قادیان واپس آجاؤ۔“ خیال رکھنا۔“ ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 80) ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 168-167) آپ کا یہ ادب و احترام صرف درس و تدریس تک ہی محدود نہ تھا بلکہ زندگی کے ہر