حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ

by Other Authors

Page 8 of 18

حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 8

13 12 اس کے بعد فر مایا کہ ہم لوگ جو خدا کی طرف سے آتے ہیں (اس وقت حضور علیہ (خلیفہ امسیح الاول ) کے سامنے حضرت شاہ صاحب سے ملاقات کے دوسرے دن کیا۔حضور نے فرمایا کہ جب ان کا اشتہار پہنچا تو میں نے معمولی اشتہار سمجھ کر ایک دو السلام کا چہرہ نہایت پر جلال نظر آتا تھا) ہمیں ایک فراست دی جاتی ہے اس فراست سطریں دیکھ کر رکھ دیا۔دو پہر کو جب لیٹا تو پاس کوئی کتاب نہ تھی یہ اشتہار تھا اسے اٹھا کے ساتھ ہم جان لیتے ہیں کہ اس شخص میں رشد اور سعادت کا مادہ ہے مگر لوگوں کو ایک کر پڑھنا شروع کیا۔ابھی چند سطریں ہی پڑھی تھیں تو مجھے علم کی بُو آئی اور پھر سارا غلطی لگی ہوئی ہے وہ یوں سمجھتے ہیں کہ ولایت ایک ایسی چیز ہے جو ولیوں کی جیب میں پڑھا۔انہوں نے ایسی گرفت کی ہے کہ پیر صاحب ہرگز اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ہے یا ان کے رومال کے ساتھ بندھی ہوئی ہے اور جس شخص پر وہ خوش ہوں اس شخص کو ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اول صفحہ 62) جیب سے نکال کر یا رومال سے کھول کر دے دیتے ہیں۔مگر یہ غلط ہے اس میں شک 1899ء میں آپ دوسری بار قادیان آئے اور ایک ماہ قیام کرنے کے بعد واپس نہیں کہ وہ ملتی انہی لوگوں سے ہے جو خدا کی طرف سے آتے ہیں مگر ان سے ملنے کا یہ طریق نہیں کہ وہ جب چاہیں دے دیں بلکہ جس طرح پر نالہ کے ذریعہ بارش کا پانی ملتا چلے گئے۔( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 188) ہے اسی طرح ولایت بھی انہی کے ذریعہ ملتی ہے مگر اس کا طریق یہ ہے کہ ان لوگوں پر 1900 ء کی موسم گرما کی تعطیلات میں آپ تیسری بار قادیان آئے۔( رفقائے احمد فیضان کے خاص وقت آتے ہیں۔ان اوقات میں جو رشد اور سعادت والے لوگ جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 188) اس بار آپ کا قادیان میں تین ماہ ٹھہرنے کا ارادہ تھا لیکن ہوتے ہیں اپنی استعداد کے مطابق اس فیضان سے حصہ حاصل کرتے رہتے ہیں۔اس ابھی تین دن ہی گزرے تھے کہ آپ کے دوسرے ساتھیوں نے واپس جانے پر اصرار طرح فیضان کے مختلف وقتوں میں حسب استعداد وہ اس قدر فیضان حاصل کر لیتے ہیں کیا جسے دیکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت مرحمت فرمائی مگر کہ جسے ولایت کہتے ہیں۔اس کے بعد فرمایا کہ اس خدا داد فراست کے ساتھ ہم لوگ حضرت شاہ صاحب بعض امور کی انجام دہی کے لئے رُک گئے۔اسی دوران حضرت جس میں رشد و سعادت کو دیکھ لیتے ہیں اگر وہ شخص فیضان کے نزول کے وقت موجود مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو خاص طور پر بلوایا اور اپنے ساتھ چار پائی پر بٹھا لیا۔نہیں ہوتا تو ہمیں کچھ رنج اور افسوس ہوتا ہے کہ فلاں شخص موجود نہ تھا اگر ہوتا تو وہ بھی پھر آپ کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ زندگی کا کوئی اعتبار فائدہ اٹھا لیتا۔نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جوان اچھا تندرست آدمی ہوتا ہے اور اس کے مرنے کا خیال اس کے بعد فرمایا کہ خدا نے مجھے جو فراست دی ہے اس کے ساتھ میں آپ میں تک بھی نہیں ہوتا اور پھر یکدم سنتے ہیں کہ وہ فوت ہوگیا۔۔۔۔۔اس لئے انسان کو جو کچھ وہ رشد اور سعادت دیکھتا ہوں اس لئے میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کم از کم آٹھ نو مہینے میرے پاس رہیں۔اس پر حضرت شاہ صاحب نے عرض کی کہ حضور گو میرے ساتھی حاصل کرنا چاہیے اسے مقدم رکھنا چاہیے۔