حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 9
15 14 چلے گئے ہیں مگر میں رہنے کے واسطے تیار ہوں۔اگر حضور ا جازت دیں تو میں ہمیشہ کے زندگی وقف کرنا واسطے حضور کی خدمت میں رہنے کے لئے تیار ہوں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اس وقت آپ کا رہنا مناسب نہیں کیونکہ آپ پادریوں کے پاس ملازم ہیں اور وہ لوگ گو کہ حضرت شاہ صاحب کا قادیان مستقل ہجرت کر جانا ہی زندگی وقف کر دینا ہمارے دشمن ہیں۔جب انہیں معلوم ہوگا کہ آپ ہمارے پاس رہ گئے ہیں تو وہ آپ پر تھا مگر پھر بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے 1907ء میں جب وقف زندگی کی کوئی مقدمہ بنا دیں گے اس لئے سر دست آپ چلے جائیں اور پھر آٹھ نو ماہ کی رخصت تحریک فرمائی تو آپ نے اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔اس طرح اللہ تعالی نے آپ کو یہ توفیق دی کہ آپ کا شمار اولین واقفین زندگی میں ہوا۔لے کر آجائیں۔اس پر آپ رخصت ہوئے۔مستقل قادیان ہجرت ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ اوّل صفحہ 66-65) آپ کا وقف قبول فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی درخواست حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب 1901ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے مستقل قادیان آگئے اور پھر ہمیشہ کے لئے قادیان کے ہو کر رہ گئے۔پر تحریر فرمایا: آپ کو اس کام کے لائق سمجھتا ہوں“ ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 117-116) ماسوائے چھ ماہ کے لئے جن میں آپ حضور علیہ السلام کی اجازت سے عائلی معاملات آپ نے عمر بھر نہایت اخلاص اور محبت کے ساتھ اس وقف زندگی کے عہد کو کی انجام دہی کے لئے اپنے آبائی علاقے کشمیر گئے تھے۔نبھایا اور دینی خدمات میں دنیا سے لا تعلق ہو کر اپنی زندگی گزاردی۔آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہ کر مختلف جماعتی خدمات کرنے کا موقع ملتا رہا۔پھر حضرت خلیفہ امسیح الاول اور حضرت خلیفہ اسیح شادی اور اولاد الثانی کے ادوار میں آپ کو اعلیٰ جماعتی عہدوں پر خدمات بجالانے کی توفیق ملتی رہی۔حضرت سید محمد سرورشاہ صاحب نے دوشادیاں کی تھیں۔پہلی شادی سید محمد آپ قرآن کریم اور حدیث کے مختلف علوم میں دسترس رکھتے تھے جن کا فیض آپ اشرف صاحب سکنہ دایہ ضلع ہزارہ کی بیٹی سے ہوئی جوتپ دق کے عارضہ کے سبب کچھ دروس کے ذریعہ احباب جماعت تک پہنچاتے رہے۔مختلف مضامین اور کتب کی عرصہ بیمار رہنے کے بعد انتقال کر گئیں اور بوقت وفات ان کی ایک بیچی تھی جس کی عمر تصنیف کے ذریعہ آپ نے احمدی احباب کی تعلیم وتربیت کے لئے نمایاں خدمات سر دس ماہ تھی۔اس بچی کا عقد پہلے صاحبزادہ میاں عبدائی صاحب ابن حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب خلیفہ امسیح الاول سے ہوا اور صاحبزادہ صاحب کی وفات کے بعد انجام دیں۔ا