حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ؓ — Page 10
17 16 سید محمود اللہ شاہ صاحب این حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب سے ہوا۔ان کے بطن سے ایک صاحبزادہ محترم سید داؤ د مظفر شاہ صاحب تھے جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی حصه دوم نوراللہ مرقدہ کے داماد بنے۔اس طرح سید محمد سرور شاہ صاحب کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ روحانی نسبت کے ساتھ ساتھ جسمانی تعلق بھی قائم ہو گیا۔آپ کی دوسری شادی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے مکرم جیون بٹ صاحب امرتسری کی بیٹی سے ہوئی جن کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین بیٹیاں اور دو بیٹے عطا فرمائے۔وفات خدمات سلسلہ ( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ دوم صفحہ 39) حضرت مسیح موعود کے مبارک عہد میں خدمات اللہ تعالیٰ نے حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کو یہ سعادت عطا فرمائی کہ انہیں وقت آپ کی صحت عمر کے آخری حصہ تک ٹھیک تھی اور بظاہر کوئی بیماری لاحق نہ تھی البتہ کے امام کی بابرکت صحبت سے نوازا۔1901ء میں قادیان مستقل آجانے کے بعد آپ بڑھاپے کی وجہ سے آپ کو کمزوری اور ضعف ہونے لگا تھا۔اس کمزوری اور نقاہت کے ہرلمحہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بابرکت وجود سے فیضیاب ہوتے رہے۔حضرت با وجود آپ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کی مجالس عرفان میں شریک ہوتے مسیح موعود علیہ السلام بھی آپ کے علم اور تقویٰ کی وجہ سے آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔ایک روز جب آپ مجلس عرفان میں تشریف فرما تھے تو آپ کو بے ہوشی ہوگئی تھے۔آپ کو حضرت مسیح موعود کے ساتھ متعد د سفروں میں رفاقت کی سعادت نصیب ہوئی اور آپ کو قادیان کے نور ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔چند روز ہسپتال میں علیل رہنے کے بعد مورخہ 3 جون 1947ء کو آپ انتقال فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔( رفقائے احمد جلد نمبر 5 حصہ سوم صفحہ 171)۔۔۔۔۔اسی طرح آپ کو پاک صحبت میں رہ کر بعض نشانات دیکھنے کا بھی موقع ملا۔1902ء میں حضرت سید سرور شاہ صاحب کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے جماعت کی طرف سے نمائندہ بنا کر ممد نامی گاؤں بھیجا۔چنانچہ آپ اس مباحثہ میں کامیاب ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر خوشنودی کا اظہار فرماتے ہوئے آپ کو غضنفر، یعنی غرانے والا شیر