حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 72 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 72

بتلا دی ہے۔آپ سے ہمیں یہ فائدہ ہو گیا ہے کہ کھٹکھٹانے کی طرز معلوم ہوگئی کہ اس طرح کھٹکھٹاؤ گے تو کھولا جائے گا۔۔۔۔اور فرمایا کہ بہت دفعہ مجھے خیال آیا کہ میں اپنے بازؤں پر لکھوں کہ غلام ہوں کیونکہ میراجسم بالکل مسیح موعود علیہ السلام کا بن گیا ہے۔فرمایا بہت دفعہ میں جنت میں جاتا ہوں۔میرا دل چاہتا ہے کہ آپ لوگوں کے لئے میوے لاؤں چونکہ میں ابھی بالغ نہیں ہوا اس لئے مجھے میوے لانے کی اجازت نہیں ہوتی۔میں ہزار ہا دفعہ آسمان پر گیا ہوں لیکن جس طرح لوگ آسمان کی نسبت خیال رکھتے ہیں ایسا نہیں ہے۔آسمان اور آسمان ہے۔فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میں نے ایسا پُر نورحسن میں دیکھا ہے کہ ایسا کبھی بھی کسی نے نہیں دیکھا۔۔۔۔فرمایا کہ دوسری دفعہ جب میں ہندوستان کی طرف نکلا تو میں لکھنو میں ایک مسجد میں اتر پڑا۔یہاں لوگ چڑھاوا چڑھایا کرتے تھے۔میں چڑھاوے سے کوئی غرض نہیں رکھتا تھا اور نہ کسی چیز کو ہاتھ لگاتا تھا۔مسجد کے مہتم کی میرے ساتھ محبت ہوگئی اور بڑے اصرار سے اس نے میری دعوت کی اور جمعہ کی نماز کے بعد جس وقت میں وعظ کے لئے بیٹھا تو مجھ پر قرآن شریف کے بہت سے اسرار ظاہر ہوئے اور میں نے کھول کر بیان کئے۔میرے وعظ کا اتنا اثر ہوا کہ بہت سے لوگ روتے تھے لیکن ایک فقیر تھا اس کو کچھ پرواہ نہیں ہوئی اور نہ اس کے چہرہ پر اثر پیدا ہوا۔میں نے اس فقیر سے کچھ باتیں کیں اور یہ حالت بیان کی فقیر نے جواب دیا کہ ہاں کسی فقیر نے توجہ ڈالی ہوگی۔تب میرے خیال میں خیال ہوا کہ یہی فقیر ہے اسی نے توجہ کی ہوگی۔اور میں نے بیعت کی آرزوظاہر کی لیکن فقیر نے جواب دیا کہ اب نہیں پھر میں یہاں حاضر ہو جاؤں گا اور تیرے ساتھ میرا وعدہ ہے فقیر جب باہر نکلا تو آپ بھی پیچھے چل پڑے لیکن اس کے بہت سے وعدے کرنے سے میں واپس لوٹ آیا۔کچھ دنوں کے بعد وہ فقیر دوبارہ آیا۔فقیر نقشبندی طریقہ کا تھا اور بہت سے طریقوں کی اس کو اجازت تھی۔جب میں 72