حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 71
ہو گیا اور اس جہان سے رخصت ہوا۔اس کے بعد بیٹا امیر حبیب اللہ خان تخت نشین ہوا۔مفصل حال اول حصہ میں بیان ہو چکا ہے۔آخر صاحبزادہ صاحب نے امیر سے رخصت لی۔امیر نے کہا کہ میرے والد آپ کی بڑی عزت کرتے تھے۔اس لئے میں بھی آپ کی عزت کرنی چاہتا ہوں۔آپ ہمارے مہربان ہیں اور محسن ہیں۔اس کے بعد امیر نے آپ کو رخصت کیا۔آپ خوست آئے اور وہاں سے بنوں پہنچے اور وہاں ایک مقام لگتی ہے۔یہاں ایک تحصیلدار عالم فاضل تھا اور ایک مولوی تھا۔دونوں نے آپ کی بڑی عزت کی۔اور چند روز ٹھہرانے کی آرزو کی۔دوسرے مولوی نے کچھ مسائل پیش کئے اور کہا لوگ مجھے ان مسائل کی وجہ سے کافر کہتے ہیں۔آپ اس کاغذ پر دستخط کر دیجئے کہ یہ مسائل بچے ہیں اور مولوی سچائی پر ہے۔آپ نے اس کو سچائی کا خط دید یا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے تحصیلدار کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں سنائیں۔تحصیلدار چونکہ صاحب اور نیک آدمی تھا سنکر بہت خوش ہوا اور کہا کہ واقعی یہ باتیں بہت درست اور صحیح ہیں اور کچھ حقیقت ضرور رکھتی ہیں۔صاحبزادہ صاحب کو خیال ہوا کہ اگر ی تحصیلدار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان گیا یہ معزز اور عالم ہے تو شاید اس کے ماننے سے اور بہت لوگ مان جاویں۔اس گمان سے آپ نے خوشی میں آکر ایک قیمتی گھوڑا اس کو دیا اور پھر آپ لاہور پہنچے اور شاہی مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دستار مبارک تبر گا دیکھی اور وہاں سے قادیان دار الامن والامان پہنچ گئے۔یہاں آ کر آپ بہت عجائبات ہمیں سنایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ میں جو باتیں لوگوں کو سناتا ہوں اس سے بہت کم درجہ کی باتوں پر لوگ مارے جاتے ہیں۔لیکن خدا کی قدرت میں اگر کوئی بات سناتا ہوں تو کوئی اعتراض مجھ پر نہیں کر سکتا۔آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے تو پہلے ہی خدا تعالیٰ کو پہچانا تھا اور یہاں تک کہ خدا کے دروازہ کی گنڈی (زنجیر ) بھی کھٹکھٹائی تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود۔۔۔۔نے ہمیں ترکیب کھٹکھٹانے کی 71