حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 64 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 64

نمبرداروں کے آدمیوں نے گھوڑے کو دریا سے نکال لیا۔پاس ہی ایک گاؤں تھا اس میں ایک مولوی جان گل رہتے تھے اور آپ سے واقف تھے ان کے گھر چلے گئے۔آپ نے مولوی جان گل سے کہا کہ میرا ہندوستان جانے کا ارادہ ہے۔مولوی صاحب نے عرض کیا کہ میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ میں تو ایک تہہ بند رکھتا ہوں۔ملنگ کے بھیس میں جاؤں گا اگر تم میرے ساتھ جانا چاہتے ہو۔تو صرف تہہ بند رکھنا ہوگا اور ملنگ بن کے چلنا ہوگا۔آخر آپ اور مولوی صاحب نے تہہ بند باندھا۔فقیری کے بھیس میں امرتسر آئے۔صاحبزادہ صاحب کو ننگا سینہ برا معلوم ہوتا تھا۔ایک رومال سینہ پر لٹکا لیا۔جب امرتسر پہنچے کشمیری محلہ میں ایک حنفی مذہب کا مولوی تھا۔اس کے پاس اتر پڑے۔اس مولوی کے پاس کتابوں کی لائبریری تھی۔آپ نے خیال کیا کہ اس کے پاس بہت سی کتابیں ہیں انہیں سے فائدہ اُٹھائیں گے۔اور کتابوں کا مطالعہ کیا کریں گے۔رات دن کتابوں کے مطالعہ میں مشغول رہتے۔شام سے صبح تک کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے اسی گمنامی کی حالت میں رہے کہ نہ تو کوئی آپ کا واقف بنا اور نہ آپ کسی کے واقف ہوئے۔صرف کبھی کبھی ملنگ فقیروں کے پاس جایا کرتے تھے۔اس ڈیرہ کے لوگوں کو بہت خوش کیا کرتے تھے۔کیونکہ صاحبزادہ صاحب دولتمند آدمی تھے۔آپ کو پیچھے سے خرچ آیا کرتا تھا۔اس لئے آپ لوگوں کو بہت کچھ دیا کرتے تھے۔اور آپ نے جامہ ملنگی زیب تن رکھا۔آپ پر عجیب و غریب حالات گزرتے تھے۔ایک روز فر مایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے جو مدینہ منورہ میں ہے امرتسر میں ایسی خوشبو آتی تھی کہ جیسے باریک رومال میں کوئی خوش ہوا اپنے پاس رکھی ہوتی تھی۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ ایک روز میں نے معلوم کیا کہ جان گل مجھ سے روحانیت میں کتنا دور ہے۔تب مجھے معلوم ہوا کہ بہت دُور ہے۔فرمایا کہ میں نے جان گل سے دریافت کیا ہے کہ جان گل تو مجھ سے کتنا دور ہے اُس نے بالشتوں سے ماپ کر کہا کہ تین بالشت۔میں 64