حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 63 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 63

یہاں کام ہے گھر جا کر کتاب کو دیکھوں گا۔صاحبزادہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا شجرہ نسب تو جل گیا ہوا ہے لیکن ہم نے اپنے باپ دادا سے ایسا سنا ہے کہ ہم علی ہجویری گنج بخش لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے ہیں اور ہمارے دادا دہلی کے بادشاہ کے قاضی تھے۔کتابوں کی ایک لائبریری تھی جو نو لاکھ روپیہ کی تھی۔ہمارے باپ دادا نے نادانی کی جو حاکم بن گئے۔حکومت پسند کرنے پر انہوں نے تعلیم کی پروا نہ کی۔تمام کتابیں ضائع ہوگئیں۔میرا اپنا حال یہ ہے کہ مجھے باپ دادا سے جائیداد ورثہ میں نہیں ملی ہے۔اس کو رکھنے پر مجبور ہوں۔میرا دل دولت کو پسند نہیں کرتا۔صاحبزادہ صاحب علم مروجہ کے بڑے عالم تھے۔ہر ایک قسم کا علم رکھتے تھے۔بہت سے شاگرد بھی آپ سے تعلیم پاتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہندوستان بھی جانا چاہئے۔یہ گورنر کے حاکم ہونے سے پہلے کا واقعہ تھا۔سواس ارادہ سے آپ بنوں آئے۔یہاں پر آپ کی بہت بڑی جائیداد ہے۔یہاں کے نمبر دار آپ کے پاس آتے اور نیزہ بازی وغیرہ کھیلتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے نمبر داروں سے فرمایا کہ میں ہندوستان جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔انہوں نے جواب میں کہا کہ برسات کا موسم ہے یہ گزر لینے دیں۔لیکن آپ نے برسات کا خیال نہ کیا اور چل پڑے۔وہاں کے نمبردار آپ کو کچھ فاصلہ پر چھوڑنے کے لئے ساتھ آئے اور آپ بہت سے کپڑے اور روپیہ لے کر گھوڑے پر سوار ہوئے جس وقت کرم دریا پر پہنچے تو دریا بہت چڑھا ہوا ہے اور پانی نہایت گدلا۔صاحبزادہ صاحب کو تیرنا نہیں آتا تھا۔آپ نے کپڑے اتار کر گھوڑے کی زمین پر رکھ کر تہ بند باندھا اور گھوڑ ا دریا میں ڈال دیا دوسرے لوگوں کے گھوڑے تو پار ہو گئے لیکن آپ کا گھوڑ اپانی نے اوپر اُٹھالیا اور گھوڑے بے طاقت ہو گیا۔آپ گھوڑے سے دریا میں کود پڑے اور دریا میں غوطے کھانے لگے اور یہ کہتے رہے کہ یا رَحِیمُ يَارَحِيمُ يا رحيم آخر خدا نے فضل و رحم کر کے انہیں پار لگا دیا۔روپیہ اور کپڑے سب دریا میں بہہ گئے۔آپ نے اس کی کچھ پروا نہ کی اور 63