حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 62
روز جدران قوم بہت بڑی تعداد میں اکٹھی ہو کر گورنر کو معہ اس کی فوج کے گھیر لیا۔جہاں بھی روشنی دیکھتے۔فائر کر کے کچھ نہ کچھ زخمی کر دیتے۔یہاں تک نوبت پہنچی کہ تمام روشنی بجھا دی گئی۔گورنر حیران و پریشان ہو گیا کہ اب کیا کیا جاوے۔اور جدران قوم لوٹنے کو تیار تھی۔ارد گرد آگئی۔صاحبزادہ صاحب نے فوراً ارد گرد تو ہیں لگوادیں اور فائر کرنے کا حکم دیدیا۔جدران قوم ایسی بدحواس ہوئی کہ چھپنے کو جگہ نظر نہ آئی۔آخر اس قوم نے بھاگنے کا راستہ لیا اور گورنر کی فوج صحیح سلامت رہ گئی۔گھیر نے پر ہی جو نقصان ہوا سو ہوا۔یہ خبر سن کر امیر عبدالرحمن خان کو بہت خوشی ہوئی کہ وہ تو میں جو کبھی بھی رعایا بن کر نہ رہتی تھیں۔گورنر نے صاحبزادہ صاحب کی مدد سے ان کو فتح کیا۔سو آپ کو بہت سا انعام دیا گیا۔اس اثناء میں امیر کابل نے انگریزوں کے ساتھ ملک تقسیم کرنے کا گورنر خوست کو حکم دیا۔نقشہ پہلے ہی تیار تھا۔جب صاحبزادہ صاحب نے دیکھا کہ امیر عبدالرحمن خان کی رعایا کا قریباً کئی سو میل کا حصہ انگریزوں کے قبضہ میں آیا ہوا ہے۔انہوں نے اس نقشہ پر زمین تقسیم کرنے سے انکار کیا۔اور ایک نیا نقشہ تیار کرنے کا وعدہ انگریزوں سے لے لیا۔جس میں وہ زمین امیر کابل کے قبضہ میں کر دی۔چونکہ گورنرز میں غصہ بہت تھا اور صاحبزادہ صاحب نرم آدمی تھے۔اس لئے صاحبزادہ صاحب اکیلے ہی سرحد کی تقسیم پر جایا کرتے تھے۔جب تقسیم ختم ہوگئی تو گورنر نے کہا کہ جب تک ہمیں نیا نقشہ نہیں ملے گا ہم اس زمین کے قابض نہیں ہو سکتے۔کیونکہ پھر پرانے نقشہ پر جھگڑا ہوگا۔اس لئے صاحبزادہ صاحب مع کچھ سواروں کے کرم ، پاڑہ چنار انگریز افسر کے پاس آئے۔اُس نے آپ کی بہت عزت کی اور نیا نقشہ تیار کرا کر دیدیا۔اس زمین کی تقسیم میں ایک شخص آیا اور صاحبزادہ صاحب سے عرض کی کہ میں نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے لیکن اس کتاب کا مجھے پتہ نہیں چلتا کہ ایک آدمی نے مسیح الزمان اور نبی ہونے کا دعوی کیا ہے آپ اس کی کتاب کو پڑھ کر دیکھیں۔میں نے اس کا کچھ رڈ لکھا ہے۔آپ اچھا جانتے ہیں اور بڑے عالم و فاضل ہیں آپ اس کا جواب لکھ سکیں گے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے 62