حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 22 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 22

یہ خون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے ایسے خون کی اس زمانہ میں نظیر نہیں ملے گی۔ہائے اس نادان امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم شخص کو کمال بیدردی سے قتل کر کے اپنے تئیں تباہ کر لیا۔اے کابل کی زمین تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بد قسمت زمین تو خدا کی نظر سے گرگئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔ایک جدید کرامت مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی جب میں نے اس کتاب کو لکھنا شروع کیا تو میرا ارادہ تھا کہ قبل اس کے جو ۱۶ را کتوبر ۱۹۰۳ء کو بمقام گورداسپور ایک مقدمہ پر جاؤں جو ایک مخالف کی طرف سے فوجداری میں میرے پر دائر ہے یہ رسالہ تالیف کرلوں اور اس کو ساتھ لے جاؤں۔تو ایسا اتفاق ہوا کہ مجھے درد گرده سخت پیدا ہوا۔میں نے خیال کیا کہ یہ کام نا تمام رہ گیا صرف دو چار دن ہیں۔اگر میں اسی طرح درد گردہ میں مبتلا رہا جو ایک مہلک بیماری ہے تو یہ تالیف نہیں ہو سکے گا۔تب خدا تعالیٰ نے مجھے دعا کی طرف توجہ دلائی۔میں نے رات کے وقت جبکہ تین گھنٹے کے قریب بارہ بجے کے بعد رات گزر چکی تھی اپنے گھر کے لوگوں سے کہا کہ اب میں دُعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔سو میں نے اسی درد ناک حالت میں صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف کے تصور سے دُعا کی کہ یا الہی اس مرحوم کے لئے میں اس کو لکھنا چاہتا تھا۔تو ساتھ ہی مجھے غنودگی ہوئی اور الہام ہوا سلام قولًا مِنْ رَّبِّ الرَّحِیم یعنی سلامتی اور عافیت ہے۔یہ خدائے رحیم کا کلام ہے۔پس قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہو گیا اور اسی روز نصف کے قریب کتاب کو لکھ لیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔ایک ضروری امر اپنی جماعت کی توجہ کے لئے اگر چہ میں خوب جانتا ہوں کہ جماعت کے بعض افراد ابھی تک اپنی روحانی کمزوری کی 22