حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 16 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 16

جان ضائع کرنا ہے۔تو اس صورت میں مقتضا خدا ترسی کا یہی تھا۔کہ بہر حال افتاں و خیزان اس مجلس میں جاتا۔اور نیز چاہئے تھا کہ قبل ثبوت کسی جرم کے اس شہید مظلوم پر یہ خی روا نہ رکھتا کہ ناحق ایک مدت تک قید کے عذاب میں ان کو رکھتا۔اور زنجیروں اور ہتھکڑیوں کے شکنجہ میں اس کو دبایا جا تا۔اور آٹھ سپاہی بر ہنہ شمشیروں کے ساتھ اس کے سر پر کھڑے کئے جاتے اور اس طرح ایک عذاب اور رعب میں ڈال کر اس کو ثبوت دینے سے روکا جا تا۔پھر اگر اس نے ایسانہ کیا تو عادلانہ حکم دینے کے لئے یہ تو اس کا فرض تھا کہ کا غذات مباحثہ کے اپنے حضور میں طلب کرتا۔بلکہ پہلے سے یہ تاکید کر دیتا کہ کاغذات مباحثہ کے میرے پاس بھیج دینے چاہئیں اور نہ صرف اس بات پر کفایت کرتا کہ آپ ان کا غذات کو دیکھتا۔بلکہ چاہئے تھا کہ سرکاری طور پر ان کا غذات کو چھپوا دیتا کہ دیکھو کیسے یہ شخص ہمارے مولویوں کے مقابل پر مغلوب ہو گیا۔اور کچھ ثبوت قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں اور نیز جہاد کی ممانعت میں اور حضرت مسیح کے فوت ہونے کے بارے میں نہ دے سکا۔ہائے وہ معصوم اس کی نظر کے سامنے ایک بکرے کی طرح ذبح کیا گیا اور باوجود صادق ہونے کے اور باوجود پورا ثبوت دینے کے اور باوجود ایسی استقامت کے کہ صرف اولیاء کو دی جاتی ہے پھر بھی اس کا پاک جسم پتھروں سے ٹکڑے کر دیا گیا۔اور اس کی بیوی اور اس کے یتیم بچوں کو خوست سے گرفتار کر کے بڑی ذلت اور عذاب کے ساتھ کسی اور جگہ حراست میں بھیجا گیا۔اے نادان! کیا مسلمانوں میں اختلاف مذہب اور رائے کی یہی سزا ہوا کرتی ہے۔تو نے کیا سوچ کر یہ خون کر دیا۔سلطنت انگریزی جو اس امیر کی نگاہ میں اور نیز اس کے مولویوں کے خیال میں ایک کافر کی سلطنت ہے کس قدر مختلف فرقے اس سلطنت کے زیر سایہ رہتے ہیں۔کیا اب تک اس سلطنت نے کسی مسلمان یا ہندو کو اس قصور کی بناء پر پھانسی دیدیا کہ اس کی رائے پادریوں کی رائے کے مخالف ہے ہائے افسوس آسمان کے نیچے یہ بڑا ظلم ہوا کہ ایک بے گناہ معصوم جو باوجود صادق ہونے کے باوجود اہلِ حق ہونے کے اور باوجود اس کے وہ ہزارہا 16