حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 91
اور عینی شہادت کے سراسر خلاف ہے اور کسی طرح مستند نہیں قرار پا سکتا۔حضرت قاضی صاحب کو تو خود اعتراف ہے کہ وہ پہلی بار ۲۷ / دسمبر ۱۹۰۲ء کو قادیان پہنچے۔(ظہور احمد موعود صفحہ ۲۸)۔اور اخبار البدر ۲۳ تا ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۸ سے ثابت ہے کہ وہ ۱۵/جنوری ۱۹۰۳ء کے سفرِ جہلم میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے ہمراہ نہیں تھے۔لہذا طالب علمی کے اس دور میں انہیں صرف چند دن تک ان کی چند جھلکیاں ہی دیکھنے کا موقع میسر آسکا ہوگا۔اس کے مقابل سید احمد نور صاحب کا بلی ایک عرصہ دراز تک سید گاہ (خوست ) میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں حاضر رہے سفر قادیان میں بھی وہ آپ کے ساتھ تھے اور اسی کمرہ میں ٹھہرے جہاں حضرت شہید مرحوم رونق افروز رہے اور واپسی پر قادیان سے افغانستان تک شرف معیت حاصل کیا انہیں کو حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ اگر میں مارا گیا تو میرا جنازہ پڑھنے کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود کولکھنا۔(سیرت احمد صفحه ۱۳۵ مولفہ مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری۔مطبوعہ ۱۹۶۱ ء ر بوه) پھر حضرت صاحبزادہ صاحب کی نعش مبارک پتھروں کے ڈھیر سے نکال کر کابل شہر کے شمالی جانب بالائی سار نامی پہاڑی کے دوسری جانب قبرستان میں دفن کرنے کا کارنامہ تو ایسا ہے جسے تاریخ تا قیامت فراموش نہیں کر سکتی۔حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے ایک دفعہ فرمایا: یہ بہادر نوجوان بڑے کام کا آدمی ہے۔حضرت عبداللطیف شہید۔۔۔کوسب جانتے ہیں۔حضرت حجتہ اللہ علیہ السلام نے ایسے اعزاز واکرام سے آپ کا ذکر کیا ہے جو قیامت تک اپنی لانظیری کے فخر کے آبدار موتیوں سے مزین رہے گا۔اس نوجوان نے آپ کے جسدِ مبارک کی آخری خدمت سے وہ حصہ لیا ہے جو وہ ے حضرت قاضی صاحب نے اپنی کتاب ” عاقبۃ المکذبین، صفحہ ۴۰ پر اپنی پہلی بار آمد قادیان کی تاریخ : ۲۳ دسمبر ۱۹۰۲ء تحریر فرمائی ہے۔91