حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 92 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 92

بھی اپنی لانظیری میں ہمیشہ کے لئے یادگار رہے گا۔“ الحکم ۱۷ تا ۲۴ دسمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳ کالم نمبر ۲) سید احمد نور صاحب کا بلی مرحوم کی شہادت کے مطابق حضرت صاحبزادہ صاحب کی عمر پچاس سال کی نہیں قریبا ساٹھ اور ستر کے درمیان تھی۔(شہید مرحوم کے چشمدید واقعات حصہ اول صفحہ ا مؤلفہ سید احمد نور صاحب کا بلی مطبوعہ ضیاء الاسلام پرلیس قادیان اکتوبر ۱۹۲۱ء) اس چشم دید شہادت کے اعتبار سے ہر صاحب فہم و فراست اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس عمر میں عام طور پر وسطی ایشیا کے باشندوں کی ڈاڑھی کے بال سفید ہو جاتے ہیں یا سیاہ رہتے ہیں جیسا کہ حضرت قاضی صاحب کی روایت سل میں ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا اس عمر میں خضاب استعمال کرنا خارج از امکان نہیں بلکہ قرین قیاس ہے کیونکہ حضرت امام نوری رحمہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خضاب کا استعمال فرمایا (سیرت محمدیہ ترجمہ مواہب الله في القسطلانی جلد ۲ صفحه (۵۵۵) پس اگر حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنے آقا و مولی مد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مبارک سنت پر عمل کی سعادت حاصل کی ہوتو کسی عاشق رسول کو اس پر حرف گیری کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔یہ نظریہ بھی درست نہیں کہ انیسویں صدی عیسوی کے آخر تک افغان قوم میں بھی خضاب کا رواج نہیں ہوا تھا۔حق یہ ہے کہ تاریخی طور پر اس نظریہ کی تائید نہیں ہوسکتی۔میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے ہمعصر علماء کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ جمال الدین افغانی کی تصویر کے مآخذ بتا چکا ہوں۔جن میں ” العروة الوثقى والثورة التحريرية الكبرى، بھی لے حضرت بانی سلسلہ کے عہد مبارک کی نسبت جو واقعات حضرت قاضی صاحب کی بیان فرمودہ روایات یا کتب میں مندرج ہیں ان میں بھی اختلاف روایت کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں۔(ملاحظہ ہو سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۴۸-۴۹ ، ظہور احمد موعود صفحه ۵۰،۳۳) 3392