حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 85 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 85

پتہ چل جائے اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی بڑی بہو کی روایت کا مزید دستاویزی ثبوت مہیا ہو جائے لیکن میں یہ معلوم کر کے حیرت زدہ رہ گیا کہ اس عظیم الشان لائبریری میں ڈیورنڈ کمیشن کے فوٹو موجود ہیں مگر ناموں کی تفصیل موجود نہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی بڑی بہو ۱۹۶۸ء میں رحلت فرماگئیں۔آپ جب تک زندہ رہیں آپ نے کبھی اپنے بیان کی کوئی تردید شائع نہیں فرمائی۔آپ کے بعد شہید مرحوم کے دوفرزند حضرت صاحبزادہ محمد طیب صاحب اور سید ابوالحسن صاحب قدسی سالہا سال تک زندہ رہے اور اپنی خاموشی سے حضرت سیدہ بی بی صاحبہ کی چشم دید شہادت عملاً قبول فرمالی۔اس تحقیق سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح نمایاں ہو جاتی ہے کہ یہ پر انوار تصویر حضرت صاحبزادہ مرحوم صاحب کی برگزیدہ ہستی ہی کی ہے۔حضرت سیدہ بی بی صاحب ( نور اللہ مرقدھا) کے وصال کے بیس برس بعد اب حال ہی میں یہ عجیب وغریب خیال پیش کیا گیا ہے کہ یہ تصویر ہرگز حضرت صاحبزادہ صاحب کی نہیں ہوسکتی کیونکہ : اول : اس دور کے افغان علماء تصویر کے سخت مخالف تھے۔دوم : حضرت قاضی محمد یوسف صاحب کی روایت کے مطابق حضرت صاحبزادہ صاحب کی عمر پچاس سال تھی اور ریش مبارک کے اکثر بال سیاہ تھے۔مگر تصویر میں سفید ہیں۔سوم: ایک دوسری تصویر میں جو اسی موقع کی ہے آپ گورنر خوست کے قدموں میں تشریف فرما ہیں۔جو احترام سادات کی مسلّمہ افغانی روایات کے سراسر منافی ہے اور عملاً ممکن نہیں۔(روز نامه الفضل ربوه ۲ رمئی ۱۹۸۹ء صفحه ۳) ضروری ہے کہ ان تینوں قیاسات کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔85%