حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 83 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 83

کچھ عرصہ بعد قادیان سے مجھے درویش قادیان جناب میاں عبدالرحیم صاحب دیانت سوڈا واٹر ( والد ماجد مولانا عبد الباسط صاحب مبلغ افریقہ ) کا حسب ذیل مکتوب موصول ہوا جو دراصل انہوں نے ۱۷ فروری ۱۹۷۳ء کو صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر دعوت و تبلیغ قادیان کے نام لکھا تھا اور محترم مرزا وسیم احمد صاحب کی ہدایت پر دفتر خدمت درویشان کے توسط سے خاکسار کو ۱۲ مارچ ۱۹۷۳ء کو ملا موصوف نے اس میں تحریر فرمایا تھا کہ: ” میں اکثر اوقات اپنے والد صاحب مرحوم حضرت میاں فضل محمد صاحب (ہرسیاں والے) سے پوچھتا رہتا تھا کہ ابا جی ! سید مرحوم کی شکل کیسی تھی؟ کس سے ملتی تھی۔اس شکل کا کوئی انسان آپ کی نظر سے گزرا ہے؟ تو آپ نے ایک مرتبہ فرمایا ہاں ان کی شکل کچھ کچھ حضرت میاں غلام محمد صاحب سفیر گلگت سے ملتی تھی مگر وہ ان سے بھاری اور گورے رنگ کے تھے۔اس کے بعد میں میاں غلام محمد صاحب مرحوم سے ایک خاص عقیدت سے ملتا تھا۔وہ بھی مجھے محبت کرتے اور بسا اوقات اپنے کاموں میں مجھ سے مشورہ بھی لیتے۔ایک دن ۶ فروری ۱۹۷۳ء کو میں اپنے دفتر زائرین قادیان میں بیٹھا تھا کہ حضرت مولوی عبد الواحد صاحب فاضل کشمیری اپنے ہاتھ میں تاریخ احمدیت کی تیسری جلد لے کر آئے اور وہاں موجود دوستوں کو جو کہ خواجہ عبدالستار صاحب، بھائی الہ دین صاحب اور میرزا محمد الحق صاحب تھے۔جو کہ لاہور میں سہ کا ایک گروپ فوٹو ہے۔میں چونکا کیونکہ میں نے اپنی تحقیق کے دوران یہ بھی سنا ہوا تھا شہید مرحوم کے صاحبزادگان سے کہ ابا جی کا فوٹو لاہور میں کھینچا گیا تھا جو اب مالتا نہیں۔اور یہ بات میرے والد صاحب نے بھی بتائی تھی اور میں نے دفتر میں موجود دوستوں سے کہا کہ اس میں تو پھر مولوی صاحب شہید کا بھی فوٹو ہوگا۔فوٹو میں نے اُٹھ کر دیکھا تو فوری طور پر بے ساختہ میں ذہنی شنیدہ فوٹو پر اپنی انگلی رکھ دی 83