حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page viii
و تندطوفانوں اور خوفناک آندھیوں کے باوجود اب سدا بہار درخت بن چکا ہے اور اس کی شاخیں یورپ سے امریکہ اور افریقہ سے آسٹریلیا تک پوری شان سے پھیل چکی ہیں اور فرزندانِ احمدیت کمال فدائیت اور بے جگری سے حضرت شہید مرحوم کے پر چم کو لہراتے ہوئے ہر بر اعظم، ہر قوم اور ہر ملک میں اپنی جان مال اور عزت و آبرو کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔؎ عاشقوں کا شوق قربانی تو دیکھ خون کی اس راہ میں ارزانی تو دیکھ ہے اکیلا کفر سے زور آزما! احمدی کی روح ایمانی تو دیکھ ( سید نافضل عمر ) حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ نے آج سے چھیاسی برس پیشتر شہید مرحوم کے حادثہ شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پیشگوئی فرمائی تھی کہ " کابل کی سرزمین پر یہ خون اس تخم کی مانند ہے جو تھوڑے عرصہ میں بڑا درخت بن جاتا ہے اور ہزار ہا پرندے اس پر اپنا بسیرا کرتے ہیں۔“ نیز اپنے ایک کشف کی بناء پر خبر دی کہ: (تذکرۃ الشہادتین صفحه ۵۲ - ۵۳) اس خدا کا صریح یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت سے ایسے افراد اس جماعت میں پیدا کرے جو صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف کی روح رکھتے ہوں اور ان کی روحانیت کا ایک نیا پودہ ہوں۔۔۔۔خدا تعالیٰ بہت سے ان کے قائم مقام پیدا کر دے گا سو میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی وقت میرے اس کشف کی تعبیر ظاہر ہو جائے گی۔“ (ایضاً صفحه ۴)