حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 69
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقات کی اور کچھ باتیں کیں تو ان کے دل میں حضرت کی بڑی عزت و حرمت پیدا ہوئی اور فوراً بیعت کر لی۔پھر جب واپس اپنے ملک کو جانے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک خط امیر عبدالرحمن کو پہنچانے کی آرزو کی۔پہلے تو آپ نے فرمایا کہ تمہارا امیر ظالم اور نافہم ہے وہ یہ بات ماننے والا نہیں۔آخر ان کے اصرار پر حضرت صاحب نے خط لکھ دیا۔جو چھپ کر شائع ہو چکا ہے خلاصہ یہ ہے: کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کے لئے مامور ومصلح کر کے بھیجا ہے۔وہ تمام باتیں جو میں کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کرتا ہوں اور میں مجد داس زمانہ کا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آیا ہوں۔الغرض اور بہت سی اچھی نصیحتیں تحریر فرما ئیں۔جب یہ اپنے ملک میں پہنچا تو اس نے یہ خط صاحبزادہ صاحب کو دیا اور سب حال مین و من سنایا۔صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ یہ بات تو بڑی سچی ہے اور یہ کلام ایک عظیم الشان کلام ہے لیکن بادشاہ اتنی سمجھ نہیں رکھتا کہ وہ سمجھ لے اور مان لے۔اس لئے آپ کا یہ خط دکھانا بے سود ہے صاحبزادہ صاحب کے پاس یہ خط رہا اور آپ نے کسی موقعہ پر یہ خط شرندل خان کو دکھلایا تاکہ اس کے ذریعہ امیر کے پاس پہنچ جاوے۔لیکن گورنر شر ندل خان نے کہا کہ بات تو سچی ہے مگر امید نہیں کہ امیر مان لے۔اور یہ بھی کہا کہ ایک آدمی انگریزوں کی طرف سے سفیر بن کر امیر کے پاس آیا تھا جس وقت امیر قندھار گیا ہوا تھا اس نے بہت سی باتیں سنائیں اور مرزا صاحب کا ذکر بھی کیا تو امیر نے ناراض ہو کر سفیر کو بے عزت کر کے رخصت کر دیا اور انگریزی افسر کو اطلاع دی کہ ایسا نالائق آدمی میری طرف کیوں بھیجا گیا جو مجھے دین سے برگشتہ کرتا ہے۔گورنر نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ اس لئے میں یہ خط امیر کے پیش نہیں کر سکتا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ امیر آپ جیسے بزرگ کے ساتھ بھی بُری طرح پیش آوے۔یہ کہہ کر خط صاحبزادہ صاحب کو واپس دیدیا۔پھر صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ آپ مجھے اجازت دیدیں کہ میں 69%