حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 65 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 65

نے کہا کہ نہیں تمہارا اور میرا آسمان اور زمین کا فرق ہے۔فرماتے تھے کہ ایک دفعہ ہم نے سوچا کہ اس امرتسر کے مولوی سے ہمیں یہی فائدہ کافی ہے کہ کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور اگر کوئی بات پوچھنی ہو تو پوچھ لیا کریں گے۔ایک روز اہلحدیث کی طرف سے دہلی سے ایک رسالہ اس مولوی کے پاس آیا۔رسالہ کا نام ضرب النعال على وجه عدو الله الدجال اور لکھا تھا کہ اس کا جواب دو۔جب یہ مولوی اس رسالہ کا جواب نہ دے سکا تو وہ مولوی اہلحدیث دہلی سے امرتسر اس مولوی کے پاس مباحثہ کے لئے آئے۔اس مولوی نے صاحبزادہ صاحب سے کہا کہ اہل حدیث دہلی کا یہ رسالہ آیا تھا اور اب وہ بحث کے لئے یہاں آنے لگے ہیں کیا کیا جاوے۔صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ تم مجھے اپنا وکیل بنا دینا میں خود ہی جواب دے لوں گا۔جب یہ مولوی بحث کے لئے آئے تو آپ جواب کے لئے تیار ہو گئے۔انہوں نے کچھ سوال کئے آپ نے ایسے جواب دیئے کہ وہ حیران ہو گئے۔پھر دوبارہ انہوں نے کچھ اور سوال پیش کئے۔جب دوسری دفعہ جواب دیا گیا تو وہ مولوی چپ ہو کر واپس دہلی چلے گئے یہ سب سوال و جواب تحریر تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب قریباً تین سال کے بعد واپس خوست اپنے اسی لباس مولویانہ میں تشریف لے گئے۔خوست میں تین قسم کے لوگ تھے۔ایک وہ جو حاکم تھے اور دوسرے مولوی اور تیسرے شیخان جو قادری سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے۔آپ نے ہر ایک فرقہ کو خدا اور رسول کے خلاف پایا۔حاکموں کو دیکھا کہ بہت ظالمانہ طریق پر لوگوں سے روپیہ وغیرہ لیتے ہیں۔مولویوں کو دیکھا کہ یونہی ہر ایک سے جھگڑتے اور جھوٹے فتوے لگاتے ہیں اور شیخان لوگوں کو دیکھا تو ان کے پاس بڑی بڑی تبیجیں رہتی ہیں۔صاحبزادہ صاحب نے سوچا کہ حاکمانہ لباس تو ہمیں باپ دادا سے حاصل ہے اور مولویانہ لباس خدا تعالیٰ نے خود مجھے خود عطا کیا ہے۔اب شیخان کو دیکھنا چاہئے کہ یہ بہت پھیلے ہوئے ہیں اور ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔فرمایا کہ میں نے جب دیکھا کہ مختلف قسم کے لوگ میرے پاس آتے ہیں تو میں نے 65