حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 52 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 52

جہاں ہند ومرتے وقت جلائے جاتے ہیں۔پس جگہ دیکھ کر میں واپس آ گیا۔اور خیال کیا کہ میرے نکالنے پر استاد صاحب یعنی صاحبزادہ صاحب راضی ہیں یا نہیں۔؟ پھر میں نے رات کو دعا کی اے مولا کریم مجھے بتا دے کہ میرا نکالنا صاحبزادہ صاحب مرحوم کو منظور ہے یا نہیں۔تب میں نے خواب میں دیکھا کہ صاحبزادہ صاحب مرحوم ایک کوٹھڑی میں پڑے ہیں۔دروازہ کھولا اور مجھے اجازت دی کہ آجاؤ۔میں پاس جا کر پیر دبانے لگا۔اور دیکھا کہ بہت نازک حالت میں زخمی ہو گئے ہیں جب نیند سے اٹھا تو میں نے معلوم کیا کہ آپ راضی ہیں۔پھر میں نے خیال کیا کہ ان کو کس طرح نکالوں۔آخر میں پلٹن میں ایک آدمی کو جو صاحبزادہ صاحب شہید مرحوم کا دوست تھا۔ملا۔اور یہ حوالدار تھا میں نے اپنی آمد کا ذکر کیا۔اور اپنا منشاء شہید مرحوم کی نسبت ظاہر کیا۔یہ بات سن کو وہ رو پڑا۔اور کہا کہ میں نے بھی بہت دفعہ ارادہ کیا تھا لیکن مجھ میں طاقت نہیں تھی۔اب آپ آئے ہیں۔اب ضرور انشاء اللہ میں اس کام میں مدد دونگا۔پھر میں نے اس سے کہا کہ آپ کچھ لوگ جتنے بھی مل سکیں رات کے بارہ بجے تک وہاں بھجوا دیں کفن تابوت خوشبو وغیرہ سامان میں لے آتا ہوں۔پھر میں ایک مزدور سے تابوت وغیرہ سامان اٹھوا کر اس جگہ کے پاس ایک قبرستان تھا لے گیا۔اس اثناء میں کہ میں کابل گیا ہوں۔خدا کی قدرت بہت سخت ہیضہ کی بیماری پڑی ہوئی تھی۔اور اتنی میتیں اٹھتی تھیں کہ کسی کو کسی کی کچھ سوچھتی نہ تھی۔میں جب وہاں گیا تو میت پر میت آتی تھی اور لوگ دفن کرتے تھے لیکن مجھے کسی نے نہ پوچھا اپنی افراتفری میں لگے ہوئے تھے اور کسی کو خیال بھی نہ ہوا کہ تم یہاں کیسے آئے ہو اور اس تابوت میں کچھ ہے کہ نہیں۔خیر آدھی رات کے قریب میں نے دیکھا کہ آدمی معلوم نہیں ہوا تب میں نے ارادہ کیا کہ میں خود ہی نکالوں خواہ کچھ ہی ہو۔تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ وہ شخص بمعہ کچھ اور لوگوں کے آپہنچا اور میں بھی تابوت لے کر ہند وسوزاں پہنچا۔اوّل جب صاحبزادہ صاحب شہید کئے گئے تو اس 52%