حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 50 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 50

مجھ سے کہا کہ کیا آپ لے جائیں گے۔میں نے کہا کہ ہاں میں لے جاؤں گا۔سردی کا موسم تھا۔پہاڑی راستہ تھا۔میں تن تنہا چل پڑا۔منگل کے پہاڑ پر کیا دیکھتا ہوں کہ بہت سخت بارش آئی ہے مجھے خوف معلوم ہوا کہ موسم اور راستہ خطرناک ہے۔بارش سخت ہے۔کہیں سردی سے یہیں مر نہ جاؤں۔تب میں نے بارش کو مخاطب ہو کر دعا کی۔کہ آج مسیح موعود علیہ السلام کے دو آدمی یہاں آئے ہیں۔ایک تو قید خانہ میں ہے اور ایک اس کے لئے خرچ لے جارہا ہے۔تم بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہو اور ہم بھی اس کے بندے ہیں تم ٹھہر جاؤ مجھ پر نہ برسنا۔اگر برسنا ہے تو میرے پیچھے پیچھے برسوتب میں آگے آگے تھا اور بارش میرے پیچھے پیچھے تھی۔ایسے طور سے کہ قریباً اٹھارہ ہمیں قدم کے فاصلہ پر بارش برس رہی تھی۔قریبا آٹھ کوس کا فاصلہ تھا کہ جہاں میرے ایک دوست کا گھر تھا۔میں نے اس گھر میں پاؤں رکھا ہی تھا کہ بارش بہت زور و شور سے حد درجہ کی ہوئی۔آخر میں نے رات وہیں گزاری۔جب صبح ہوئی تو پھر چل پڑا۔غڑک ایک مقام ہے۔وہاں پہنچ کر دیکھا کو چی لوگوں کا مال (یعنی خانہ بدوش کا) ایک ایک جگہ پر کہیں سو کہیں دوسو بکریاں بھیٹر میں متفرق طور پر سردی اور بارش سے مری پڑی ہیں اور کہیں اونٹ مرے پڑے نظر آتے ہیں۔یہ سب کارروائی برف اور سردی کی تھی۔غڑک سے آگے ایک مقام خوشئے ہے وہاں مجھے پہنچنا تھا لیکن غڑک کی پہاڑی پر پہنچتے وقت شام ہوگئی۔سورج ڈوبنے کے قریب تھا پر جگہ یہ ایسی تھی کہ یہاں سے منزل مقصود بہت دور تھی اور کوئی رہنے کی جگہ نہ تھی۔یہاں بھی مجھ پر بارش ہوئی اور اولے پڑے۔میں دوڑ کر ایک غار میں چھپ گیا۔تھوڑی سی دیر کے بعد بادل پھٹ گئے اور سورج نکل آیا۔اس وقت میں نے دعا کی کہ اے میرے مولیٰ یا تو اس سورج کو جو ڈوبنے والا ہے کھڑا رکھیو۔اور یا زمین کی طنا میں کھینچ لو۔کہ میں خوشے پہنچ جاؤں اور کوئی صورت میرے پہنچنے کی نہیں تب خدا جانے کہ میری کون سی دعا قبول ہوئی اور شام ہوتے ہوتے سورج ڈوبنے تک 50