حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 45 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 45

آئے۔وہاں سے آپ گھوڑے پر سوار ہوئے اور ہم سب پیدل تھے گھر تک پہنچ گئے۔۔اس وقت کابل کا امیر حبیب اللہ خان تھا۔جب اپنی جگہ پر پہنچے۔ادھر ادھر سے رؤسا خوشی خوشی ملنے کے لئے آئے کہ صاحبزادہ صاحب حج سے واپس آگئے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں حج تک نہیں پہنچا۔بلکہ ہندوستان میں قادیان ایک جگہ ہے۔وہاں ایک آدمی نے۔۔۔دعوی کیا ہے اور یہ اس کا فرمان ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور اس نے مجھے زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے۔۔۔لوگوں نے عرض کا کہ یہ باتیں نہ کرو۔انہی باتوں سے تو امیر کابل نے بر امنایا تھا۔اور عبدالرحمن کو شہید کر دیا تھا۔شہید مرحوم نے فرمایا کہ تمہارے دو خدا ہیں۔جتنا خدا سے خوف ہونا چاہئے اتنا تم امیر سے کرتے ہو۔کیا میں خدا کی بات اور حکم کو امیر کی خاطر نہ مانوں۔کیا قرآن سے تو بہ کروں یا حدیث سے دستبردار ہو جاؤں اگر میرے سامنے دوزخ بھی آجائے تب بھی میں تو اس بات سے نہیں ٹلوں گا۔چنانچہ خوست کے گورنر نے حاضر ہو کر بہت عرض کیا یہ باتیں نہ کرو۔تمام عزیز واقارب نے بیزاری کے خطوط لکھے لیکن آپ نہ ٹلے۔اور ان باتوں سے بالکل پیچھے نہ ہٹے۔باوجود ایسے وقت نازک ہونے کے آپ نے پانچ خط بادشاہ کے درباریوں کو لکھے ایک ان میں سے گورنر مرزا محمد حسین خان کو لکھا۔ایک مرزا عبدالرحیم خان دفتری کو لکھا۔ایک شاغاشی عبد القدوس خان کو اور ایک حاجی باشی کو۔جو بھی امیر کے ملک سے حاجی آتے ہیں اس کی اجازت سے آتے ہیں۔ایک اور بڑا آدمی تھا۔غالبا قاضی القضاۃ تھا۔ان خطوں میں یہ مضمون تھا۔میں حج کی خاطر روانہ ہوا تھا لیکن ہندوستان جا کر قادیان ایک جگہ ہے وہاں گیا۔قادیان میں ایک آدمی ہے جس کا نام مرزا غلام احمد ہے۔یہ دعوی کیا ہے کہ میں خدا کی طرف سے اس زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں۔۔۔میں نے قادیان میں چند مہینے گزارے۔اس کے تمام چال چلن کو دیکھا۔دعوے کو سنا اور اقوال وافعال غور سے دیکھے۔۔۔45