حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 44
چونکہ جھگڑنے میں مجھے بہت دیر لگ گئی تھی۔اس لئے ہمارے ساتھیوں نے تنگ آکر شهید مرحوم سے عرض کیا کہ ٹمٹم والا بھی نہ آیا اور ہمارا آدمی بھی نہ لوٹا۔وہی واپس آجاتا تو ہم چلنے والے بنتے۔روپیہ تو ملے گا نہیں اور نہ ہی ٹمٹم والا آئے گا۔شہید مرحوم نے فرمایا۔میں نے ایسا آدمی پیچھے بھیجا ہے کہ یا تو ٹمٹم والے کو لے آئے گا اور یا روپیہ واپس لائے گا اور وہ ایسا آدمی ہے کہ اگر اسے پہاڑ کے سامنے کھڑا کر دیں تو ضرور ہے کہ پہاڑ کو پھاڑ کر دوسری طرف نکل جائے۔اتنے میں میں آکر حاضر ہو گیا۔تو شہید مرحوم فرمانے لگے کہ دیکھا جو میں نے کہا تھا کہ یہ بڑا ز بر دست آدمی ہے۔سوا لیسا ہی نکلا۔ریل گاڑی میں جب ہم کو ہاٹ جارہے تھے۔تو شہید مرحوم فرمانے لگے کہ میرا مقابلہ ریل کے ساتھ ہے۔ریل کہتی ہے کہ میں تیز رفتار ہوں۔میں کہتا ہوں کہ میری رفتار پڑھنے میں تیز ہے آپ کا یہ فرمانا تھا کہ ریل کی رفتار کم ہوگئی۔اور آہستہ آہستہ چلنے لگی۔گارڈ نے بہت کوشش کی۔وقت بھی تنگ تھا۔لیکن گاڑی آخر کار کھڑی ہوگئی۔تمام لوگ اتر پڑے اور شور بپا ہوگا کہ گدھا کھڑا ہو گیا گدھا کھڑا ہو گیا۔خیر صبح ہوتے ہوئے بنوں کو جانے کے لئے اور ٹمٹم کرائی ٹمٹم میں بھی آپ قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہے۔جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو نماز اتر کر پڑھی اس اثناء میں بہت سخت بارش ہوئی لیکن شہید مرحوم نے کوئی پرواہ نہ کی۔اپنے مزے سے خوب ہمیں نماز پڑھائی۔ایک جگہ خرم نام راستہ میں آئی رات کو سرائے کے آدمی سے بکری منگا کر ذبح کی اور پکا کر ہم سب نے کھانا کھایا اور ان لوگوں کو بھی کھلایا۔آخر ہم بنوں پہنچے۔وہاں ایک دو روز کے قیام کے بعد خوست کو چل پڑے۔راستہ میں دوڑ ایک جگہ ہے وہاں تک ٹمٹم میں گئے۔یہاں کے نمبر دار نے ہماری آمد کی بہت خوشی ظاہر کی اور ایک بکری ذبح کی اور کھانا کھلایا۔شہید مرحوم نے کچھ وعظ بھی اسے کیا۔صبح ہوتے ہی سید گاہ سے کچھ آدمی گھوڑوں پر استقبال کے لئے 44