حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 14 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 14

یہ زمانہ جہاد کا نہیں۔اور وہ مسیح موعود جو در حقیقت مسیح ہے اس کی یہی تعلیم ہے کہ اب یہ زمانہ دلائل کے پیش کرنے کا ہے۔تلوار کے ذریعہ سے مذہب کو پھیلا نا جائز نہیں۔اور اب اس قسم کا پودہ ہر گز بار آور نہیں ہوگا بلکہ جلد خشک ہو جائے گا۔چونکہ شہید مرحوم سچ کے بیان کرنے میں کسی کی پروا نہیں کرتے تھے۔اور در حقیقت ان کو سچائی کے پھیلانے کے وقت اپنی موت کا بھی اندیشہ نہ تھا۔اس لئے ایسے الفاظ ان کے منہ سے نکل گئے۔اور عجیب بات یہ ہے کہ ان کے بعض شاگرد بیان کرتے ہیں کہ جب وہ وطن کی طرف روانہ ہوئے تو بار بار کہتے تھے۔کہ کابل کی زمین اپنی اصلاح کے لئے میرے خون کی محتاج ہے۔اور درحقیقت وہ سچ کہتے تھے۔کیونکہ سرزمین کابل میں اگر ایک کروڑ اشتہار شائع کیا جاتا۔اور دلائل قویہ سے میرا امسیح موعود ہونا ان میں ثابت کیا جاتا تو ان اشتہارات کا ہرگز ایسا اثر نہ ہوتا جیسا کہ اس شہید کے خون کا اثر ہوا۔کابل کی سرزمین پر یہ خون اس تخم کی مانند پڑا ہے۔جو تھوڑے عرصہ میں بڑا درخت بن جاتا ہے اور ہزار ہا پرندے اس پر اپنا بسیرا لیتے ہیں۔اب ہم اس دردناک واقعہ کا باقی حصہ اپنی جماعت کے لئے لکھ کر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ جب چار مہینے قید کے گزر گئے۔تب امیر نے اپنے رو برو شہید مرحوم کو بلا کر پھر اپنی عام کچہری میں تو بہ کے لئے فہمائش کی۔اور بڑے زور سے رغبت دی کہ اگر تم اب بھی قادیانی کی تصدیق اور اس کے اصولوں کی تصدیق سے میرے روبرو انکار کرو تو تمہاری جان بخشی کی جائے گی اور تم عزت کے ساتھ چھوڑے جاؤ گے۔شہید مرحوم نے جواب دیا کہ یہ تو غیر ممکن ہے کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔اس دنیا کے حکام کا عذاب تو موت تک ختم ہو جاتا ہے لیکن میں اس سے ڈرتا ہوں جس کا عذاب کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ہاں چونکہ میں سچ پر ہوں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان مولویوں سے جو میرے عقیدے کے خلاف ہیں میری بحث کرائی جائے۔اگر میں دلائل کی رو سے جھوٹا نکلا تو مجھے سزا دی جائے۔راوی اس قصہ کے کہتے ہیں کہ ہم اس گفتگو کے وقت موجود تھے۔امیر نے اس بات کو پسند کیا اور مسجد شاہی میں خان ملا خان اور آٹھ مفتی بحث کے 14