حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 13
چکے ہیں وہ امیر کابل کی نظر میں اس قدرمنتخب عالم فاضل تھا کہ تمام علماء میں آفتاب کی طرح سمجھا جاتا تھا۔پس ممکن ہے کہ امیر کو بجائے خود یہ رنج بھی ہو کہ ایسا برگزیدہ انسان علماء کے اتفاق رائے سے ضرور قتل کیا جائے گا۔اور یہ تو ظاہر ہے کہ آج کل ایک طور سے عنانِ حکومت کابل کے مولویوں کے ہاتھ میں ہے۔اور جس بات پر مولوی لوگ اتفاق کر لیں پھر ممکن نہیں کہ امیر اس کے برخلاف کچھ کر سکے۔پس یہ امر قرین قیاس ہے کہ ایک طرف اس امیر کو مولویوں کا خوف تھا اور دوسری طرف شہید مرحوم کو بے گناہ دیکھتا تھا پس یہی وجہ ہے کہ وہ قید کی تمام مدت میں یہی ہدایت کرتا رہا۔کہ آپ اس شخص قادیانی کو مسیح موعود مت ما نیں۔اور اس عقیدہ سے تو بہ کریں۔تب آپ عزت کے ساتھ رہا کر دیے جاؤ گے۔اور اسی نیت سے اس نے شہید مرحوم کو اس قلعہ میں قید کیا تھا جس قلعہ میں وہ آپ رہتا تھا۔تا متواتر فہمائش کا موقعہ ملتا ہے۔اور اس جگہ ایک اور بات لکھنے کے لائق ہے۔اور دراصل وہی ایک بات ہے جو اس بلا کی موجب ہوئی۔اور وہ یہ ہے۔کہ عبدالرحمن شہید کے وقت سے یہ بات امیر اور مولویوں کو خوب معلوم تھی کہ قادیانی جو مسیح موعود کا دعویٰ کرتا ہے جہاد کا سخت مخالف ہے اور اپنی کتابوں میں بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس زمانہ میں تلوار کا جہاد درست نہیں۔اور اتفاق سے اس امیر کے باپ نے جہاد کے واجب ہونے کے بارے میں ایک رسالہ لکھا تھا جو میرے شائع کردہ رسالوں کے بالکل مخالف ہے اور پنجاب کے شر انگیز بعض آدمی جو اپنے تیں موحد یا اہلِ حدیث کے نام سے موسوم کرتے تھے۔امیر کے پاس پہنچ گئے تھے۔غالبًا اُن کی زبانی امیر عبدالرحمن نے جو امیر حال کا باپ تھا میری ان کتابوں کا مضمون سُن لیا ہوگا۔اور عبدالرحمن شہید کے قتل کی بھی یہی وجہ ہوئی تھی کہ امیر عبدالرحمن نے خیال کیا تھا کہ یہ اس گروہ کا انسان ہے جو لوگ جہاد کو حرام جانتے ہیں۔اور یہ بات یقینی ہے کہ قضاء و قدر کی کشش سے مولوی عبد اللطیف مرحوم سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ اس قید کی حالت میں بھی جتلا دیا کہ اب لے جہاد بالسیف مراد ہے بمطابق حدیث يضع الحرب۔بخاری۔(ناقل) 13