حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 12 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 12

ہے۔بلکہ ایک سخت قید تھی جس کو انسان موت سے بدتر سمجھتا ہے۔اس لئے لوگوں نے شہید موصوف کی اس استقامت اور استقلال کو نہایت تعجب سے دیکھا اور در حقیقت تعجب کا مقام ہے۔کہ ایسا جلیل الشان شخص کہ جو کئی لاکھ روپیہ کی ریاست کابل میں جاگیر رکھتا تھا اور اپنے فضائل علمی اور تقویٰ کی وجہ سے گویا تمام سرزمین کابل کا پیشوا تھا اور قریبا پچاس برس کی عمر تک تنعم اور آرام میں زندگی بسر کی تھی۔اور بہت سا اہل وعیال اور عزیز فرزند رکھتا تھا۔پھر یک دفعہ وہ ایسی سنگین قید میں ڈالا گیا جو موت سے بدتر تھی اور جس کے تصور سے بھی انسان کے بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ایسا نازک اندام اور نعمتوں کا پروردہ انسان وہ اس رُوح کے گداز کرنے والی قید میں صبر کر سکے۔اور جان کو ایمان پر فدا کرے۔بالخصوص جس حالت میں امیر کابل کی طرف سے بار باران کو پیغام پہنچتا تھا کہ اس قادیانی شخص کے دعوی سے انکار کر دو تو تم ابھی عزت سے رہا کئے جاؤ گے مگر اُس قومی الایمان بزرگ نے اس بار بار کے وعدہ کی کچھ بھی پروا نہ کی۔اور بار بار یہی جواب دیا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں ایمان پر دنیا کو مقدم رکھ لوں۔اور کیونکر ہوسکتا ہے کہ جس کو میں نے خوب شناخت کر لیا اور ہر ایک طرح سے تسلی کر لی۔اپنی موت کے خوف سے اس کا انکار کر دوں۔یہ انکار تو مجھ سے نہیں ہوگا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے حق پالیا۔اس لئے چند روزہ زندگی کے لئے مجھ سے یہ بے ایمانی نہیں ہوگی۔کہ میں اُس ثابت شدہ حق کو چھوڑ دوں۔میں جان چھوڑنے کے لئے تیار ہوں اور فیصلہ کر چکا ہوں مگر حق میرے ساتھ جائے گا۔اس بزرگ کے بار بار کے یہ جواب ایسے تھے۔کہ سر زمین کابل کبھی ان کو فراموش نہیں کریگی۔اور کابل کے لوگوں نے اپنی تمام عمر میں یہ نمونہ ایمانداری اور استقامت کا کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔اس جگہ یہ بھی ذکر کرنے کے لائق ہے کہ کابل کے امیروں کا یہ طریق نہیں ہے۔کہ اس قدر بار بار وعدہ معافی دیکر ایک عقیدہ کے چھڑانے کے لئے تو جہ دلائیں۔لیکن مولوی عبد اللطیف صاحب مرحوم کی یہ خاص رعایت اس وجہ سے تھی کہ وہ ریاست کابل کا گویا ایک باز و تھا اور ہزار ہا انسان اس کے معتقد تھے اور جیسا کہ ہم اوپر لکھ 12