حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 86
تصویر اور افغان علماء افغانستان کی مستند تواریخ سے ثابت ہے کہ صدیوں سے سلاطین و شاہانِ افغانستان کی تصاویر موجود چلی آتی ہیں مگر افغانی علماء جنہوں نے اپنے فتاویٰ سے بڑے بڑے کجکلا ہوں اور تاجوروں کے تختے اُلٹ دیئے اور ان کی بساط سیاست ہمیشہ کے لئے لپیٹ دی کبھی انہی تصاویر کے خلاف منبر ومحراب سے کوئی احتجاج نہیں کیا۔عرصہ ہوا افغانستان کے ایک نامور محقق جناب محمد کریم خان نز یہی رفیق انجمن ادبی کابل نے ایک تحقیقی مقالہ تاریخچه کابل“ کے نام سے سپرد قلم کیا۔جس میں فاضل مقالہ نگار نے مندرجہ ذیل افغان سلاطین کے فوٹو شائع کئے : سلطان غیاث الدین غوری شہنشاہ افغانستان (۱۱۹۲ء)، سلطان شہاب الدین غوری شہنشاہ افغانستان (۱۱۷۳ء)، سلطان قطب الدین ایبک (۱۲۰۶ء)، سلطان آرام شاه (۱۲۱۰ء)، سلطان شمس الدین التمش (۱۲۱۰ء)، سلطان رکن الدین فیروز شاہ (۱۲۳۵ء)، ملکہ رضیہ (۱۲۳۶ء)، سلطان معز الدین بہرام شاہ (۱۲۳۹ء) ، سلطان علاؤ الدین مسعود شاہ (۱۲۴۱ء)۔یہ باتصویر مقاله انجمن ادبی کابل کے مجلہ علمی ” سالنامہ کابل“ بابت ۳۷-۱۹۳۶ء میں طبع ہوا۔امیر عبدالرحمن خان (جن کے زمانہ میں ڈیورنڈ لائن کا قیام عمل میں آیا ) کی خود نوشت تاریخ افغانستان ۱۳۲۱ ھجری میں تہران سے چھپی جس کے آغاز میں خاص اہتمام سے ان کی اپنی تصویر شامل کی گئی۔افغانستان کے سیکرٹری آف سٹیٹ سلطان محمد خان بیرسٹر ایٹ لاء نے اس کتاب کی تلخیص کر کے اس کا انگریزی ترجمہ لندن سے اور اردو ترجمہ جناب سید محمد حسن بلگرامی نے مطبع سشی آگرہ سے شائع کیا۔اردو ایڈیشن دبدبہ امیری“ کے نام سے چھپا جس میں ” ضیا الملتہ دو 86