حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 87 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 87

والدین امیر عبدالرحمن خان غازی اور ان کے دادا امیر دوست محمد خان غازی کی تصاویر موجود ہیں۔دبدبہ امیری میں امیر عبدالرحمن خان نے بتایا ہے کہ وہ راگ اور تصاویر اور ہر قسم کی صنعت کردگار کے شیفتہ ہیں (صفحہ ۸۷) نیز یہ دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے: ۱۸۸۵ء میں جب میں راولپنڈی گیا ہوا تھا ایک دن ایک فوٹو گرافر نے میرا فوٹو لینے کے لئے اپنا کیمرہ میرے سامنے نصب کیا۔فوراً ہی میرا عرض بیگی چھپٹ کر کیمرہ کے پاس گیا اور اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیئے۔میں نے پوچھا یہ کیا کرتے ہو اس نے عرض کیا حضور ! آپ کو معلوم نہیں یہ ایک قسم کی نو ایجاد توپ ہے جس سے یہ شخص آپ پر نشانہ لگایا چاہتا ہے۔میں یکسن کر بہت ہنسا کہ بائیں ریش وفش تمہارا دل جہالت سے بالکل تاریک ہورہا ہے۔وہاں سے ہٹ آؤ اور اس شخص کو میری تصویر اُتارنے دو۔اس بیچارے نے اول کبھی کیمرہ نہ دیکھا تھا۔اس لئے وہ سمجھ نہ سکتا تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔میں نے ہر چند اسے سمجھایا مگر وہ نہ سمجھا۔“ ( دبد به امیری صفحه ۲۴) دبدبہ امیری‘ سے یہ بھی ثابت ہے کہ امیر عبدالرحمان خان کے کمرہ ملاقات اور خوابگاہ میں بکثرت تصاویر آویزاں ہوتی تھیں اور انہوں نے تصویر سازی کے کارخانے بھی جاری کئے تھے۔امیر عبدالرحمان خان کی طرح ان کے ہم عصر بعض علماء و مشائخ کی تصاویر بھی مل سکتی ہیں۔مثلاً تیرہویں صدی کے مجدد شمس الولایۃ حضرت مولانا سید امیر الاطمانزی النقشبندی ( پیر کوٹھا شریف تحصیل صوابی ، وفات ۱۲۹۵ ہجری مطابق ۱۸۷۷ء) کے جانشین اور خلیفہ مجاز حافظ حاجی مولوی نور محمد صاحب نقشبندی تھے جن کا اصل وطن گڑھی۔87