حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ

by Other Authors

Page 70 of 114

حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 70

مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ہو آؤں۔گورنر نے کہا کہ جس طرح میں اپنے بیٹے کو اجازت نہیں دے سکتا۔اسی طرح آپ کو بھی اجازت نہیں دے سکتا ہوں کہ آپ بھی ویسے ہی بڑے آدمی ہیں جیسا کہ میں۔امیر ہی اجازت دے تو دے میں اجازت نہیں دے سکتا۔ایک روز گورنر نے صاحبزادہ صاحب سے ذکر کیا کہ ملک میں بہت بڑا فساد پڑا ہوا ہے لوگ شیطان سیرت ہیں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی آپ کا دشمن آپ کی رپورٹ امیر کے پاس کر دے اور آپ کو امیر بلائے اس لئے چاہئے کہ آپ پہلے ہی سے امیر کے پاس ہو آئیں تا کہ آئندہ کوئی رپورٹ آپ کی نہ کر سکے۔دوسرے آپ ایک بڑی عزت اور بڑی پوزیشن کے آدمی ہیں آپ کو دیکھ کر امیر خود ہی بڑی عزت اور توقیر سے پیش آئے گا۔اور آپ کی ملاقات سے خوشی و مسرت کا اظہار کرے گا۔صاحبزادہ صاحب کچھ آدمیوں کے ساتھ کابل تشریف لے گئے۔کابل میں امیر کا درباررات کو ہوا کرتا تھا۔آپ چند دن وہاں ٹھہرے۔جب دربار میں حاضر ہوئے تو امیر آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ رپورٹیں تو آپ کی بابت میرے پاس آئی تھیں مگر میں نے ان کو نظر انداز کر دیا اور میں آپ کے آنے پر بہت خوش ہوا۔صاحبزادہ صاحب نے کچھ اور لوگوں کے متعلق بیان کیا۔امیر نے جواب دیا کہ ایسے آدمی بالکل ملتے ہی نہیں۔خیر آپ خاموش ہو گئے۔صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ جب امیر سے ملاقات ہو چکی تو مجھے واپس گھر جانے کا خیال آیا لیکن اور جو معزة زلوگ دربار میں تھے انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ امیر قابو میں نہیں ایسا نہ ہو کہ آپ گھر پہنچیں بعد میں آپ کو بلانے کے لئے آدمی بھیجے جائیں اس سے بہتر ہے کہ آپ کا بل میں ہی ٹھہریں۔فرماتے ہیں تب میں نے امیر سے عرض کی کہ میں یہاں آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔امیر بہت خوش ہوا اور کہا بہت اچھا۔صاحبزادہ صاحب کو بہت شوق تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خط کسی نہ کسی طرح امیر کو دکھاؤں۔لیکن کوئی موقعہ ایسا نہ نکلا کہ آپ وہ خط پیش کر دیں۔اس عرصہ میں امیر بیمار 70