حضرت شہزادہ سید عبدالطیف شہید ؓ — Page 26
شیخ عجم کو خراج تحسین ( از حضرت بانی سلسلہ احمدیہ ) آن جوانمرد و حبیب کردگار جو ہر خود کرد آخر آشکار اس جواں مرد اور خدا کے پیارے نے آخر کار اپنا جو ہر ظاہر کر دیا نقد جان از بیر جاناں باخته دل ازیں فانی سرا پرداخته معشوق کے لئے نقد جان لٹا دیا اور اس فانی گھر سے دل کو ہٹالیا پُر خطر هست این بیابان حیات صد ہزاراں اثر دہا لیش در جهات اس میں ہر طرف لاکھوں اثر د ہے موجود ہیں یہ زندگی کا میدان نہایت پُر خطر ہے صد ہزاراں آتشے تا آسماں صد ہزاراں سیل خونخوار و دماں لاکھوں شعلے آسمان تک بلند ہیں اور لاکھوں خونخوار اور تیز سیلاب آ رہے ہیں صد ہزاراں فرسخے تا کوئے یار دشت پر خار و بلالیش صد ہزار اس دیار میں لاکھوں کوس تک کانٹوں کے جنگل ہیں اور ان میں لاکھوں بلائیں موجود ہیں بنگر ایں شوخی ازاں شیخ عجم ایں بیاباں کر دطے از یک قدم اس نے بیابان کو ایک ہی قدم میں طے کر لیا اس شیخ عجم کی یہ شوخی دیکھ کہ این چنین باید خدارا بندہ سرے دلدار خود افگنده خدا کا بندہ ایسا ہی ہونا چاہئے جو دلبر کی خاطر اپنا سر جھکا دے 26